قطر نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ اچانک مذاکرات کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ بندی کے لیے تمام سرکاری اور غیر سرکاری رابطوں کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ قطر خطے میں امن کے قیام کا خواہاں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قطر فی الحال فریقین کے درمیان براہ راست
ثالثی نہیں کر رہا۔ ان کی تمام تر توجہ اس وقت اپنے ملک کے دفاع اور حالیہ حملوں کے نقصانات پر مرکوز ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملوں میں تہران سمیت کئی ایرانی شہر نشانہ بنے ہیں۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایران کی جانب سے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خلیج میں امریکی مفادات کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھول دیا تو وہ اس کے بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے 5 روز کے لیے ملتوی کر دیں گے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بجائے ایک سینئر ایرانی عہدیدار سے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے ایسی خبروں کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں امریکہ کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے اور اس پر غور جاری ہے۔