سن 1995 میں کیلیفورنیا کے ایک طوطے ’بوک‘ نے 1728 انسانی الفاظ بول کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنائی تھی۔
مزید پڑھیں
یہ طوطا 1994 کے آخر میں 5 برس کی عمر میں ہلاک ہوا، لیکن اس کی صلاحیتوں نے پرندوں کی آوازوں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی تھی۔
نیو میکسیکو یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی رائٹ کے مطابق تقریباً تمام پرندے ایک پیچیدہ مواصلاتی نظام رکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے ساتھیوں کو خطرات یا افزائش نسل کے موسموں سے آگاہ کرتے ہیں۔
بعض پرندے یہ مہارتیں سماجی تجربات کے دوران سیکھتے ہیں اور
اسے بقا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ صرف طوطے ہی نہیں بلکہ کوے اور مینا جیسے پرندے بھی انسانی الفاظ کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قید میں رہنے والے کوے ’ہیلو‘ اور ’ہائے‘ جیسے الفاظ دہراتے ہیں، جبکہ افریقی گرے طوطا مسلسل تیس منٹ تک گفتگو کر سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ طوطوں کا انسانوں کی نقل کرنا ان کے سماجی رویے کا حصہ ہے۔
طوطے فطری طور پر زندگی بھر کے لیے ایک ساتھی چنتے ہیں، لیکن قید میں تنہائی کے باعث وہ اپنی سماجی وابستگی کا مرکز انسانوں کو بنا لیتے ہیں اور ان سے تعلق قائم کرتے ہیں۔
پرندے اپنے قریبی ساتھیوں کی آوازوں کی نقل کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنے خاندان کا حصہ بنا سکیں۔
جب کوئی انسان روزانہ ’صبح بخیر‘ جیسے الفاظ دہراتا ہے، تو طوطا بھی ان الفاظ کو اپنی روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بنا لیتا ہے تاکہ وہ اپنے مالک کے قریب ہو سکے۔
تشریحی اعتبار سے بولنے والے پرندوں کے دماغ میں ’گانے کا نظام‘ موجود ہوتا ہے جو پیچیدہ جملے سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے سینے میں ’سائرنکس‘ نامی عضو ہوتا ہے جو انسانی گلے کی طرح ہوا کے دباؤ سے آوازیں پیدا کرتا ہے اور یہ انسانی حنجرہ (نرخرہ) سے زیادہ فعال ہے۔
طوطوں کی انسانی الفاظ کی نقل کرنے کی صلاحیت عمر کے ابتدائی حصے میں زیادہ ہوتی ہے۔
جو طوطے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ جنگل میں گزارتے ہیں، ان میں انسانوں کی نقل کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ اپنی فطری آوازوں اور مواصلاتی طریقوں میں زیادہ مشغول رہتے ہیں۔
کیا طوطے الفاظ کے معنی سمجھتے ہیں؟ پروفیسر رائٹ کے مطابق طوطے آوازوں اور اعمال کا تعلق جوڑنے میں ماہر ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر وہ دروازے کی گھنٹی کی نقل کر سکتے ہیں تاکہ گھر والے دروازے کی طرف آئیں یا بھوک لگنے پر مخصوص کھانے کا نام پکار سکتے ہیں۔
اگرچہ طوطے رنگ اور جسامت کے لحاظ سے چیزوں کی درجہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ جب وہ انسانی جملے بولتے ہیں تو یہ ان کے لیے کسی گہرے مفہوم کے بجائے محض آوازوں کی ایک ترتیب ہوتی ہے جسے وہ سماجی رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔