پروجیکٹ محمد بن سلمان مملکت کے مختلف علاقوں کی قدیم مساجد کو محفوظ بنانے اور ان کی اصل شناخت برقرار رکھنے کے مقصد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں
اس منصوبے کے تحت مساجد کی مرمت اور ترقی ایسے انداز میں کی جا رہی ہے جس سے ان کا روایتی طرزِ تعمیر برقرار رہے اور ان کی مذہبی و ثقافتی اہمیت مزید اجاگر ہو۔
یہ اقدامات سعودی ثقافتی ورثے کو نمایاں کرنے کے قومی پروگرام اور وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہیں۔ اسی سلسلے میں تبوک کے علاقے ضباء میں واقع جامع مسجد کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ شہر کی قدیم ترین تاریخی مساجد میں شمار ہوتی ہے اور اس کا تعلق ضباء کی مذہبی اور سماجی تاریخ سے گہرا ہے۔ اس مسجد کا نام مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی اور شہر کی سمندری تاریخ سے جڑا ہوا ہے ۔
مقامی معاشرے میں مسجد کو نمایاں سماجی حیثیت حاصل رہی ہے۔ تاریخی طور پر جب ملاح ضباء کی بندرگاہ پر پہنچتے تھے تو یہ مسجد ان کے اجتماع کی اہم جگہ ہوا کرتی تھی۔
اسی وجہ سے مسجد نہ صرف عبادت گاہ بلکہ شہر کے رہائشیوں اور آنے والے مہمانوں کے لیے ایک اہم سماجی اور مذہبی مرکز بھی رہی ہے۔
جامع مسجد نے اپنی تاریخ میں تعمیر کے کئی مراحل دیکھے۔ ابتدا میں قبیلہ العرینی کے ایک شخص نے اس کے گرد پتھروں کی دیواریں بنا کر اس کی بنیاد رکھی۔
بعد ازاں 1373 ہجری میں عبداللہ بن سلیم المعروف السنوسی (رحمۃ الله ) نے اس کی دوسری مرتبہ تعمیر کروائی۔
اس کے بعد تیسری بار مسجد کی تعمیر شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن (رحمۃ الله ) کے خرچ پر ہوئی، جبکہ چوتھی اور آخری تعمیر موجودہ ترقیاتی منصوبے سے پہلے شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود (رحمۃ الله ) کے دور میں مکمل کی گئی۔
آج بھی یہاں نماز اسی تعمیر شدہ عمارت میں ادا کی جاتی ہے۔
پروجیکٹ محمد بن سلمان کے تحت یہاں مرمت اور بہتری کے کام کیے گئے جس کے نتیجے میں اس کا رقبہ 947.88 مربع میٹر سے بڑھ کر 972.23 مربع میٹر ہو گیا ہے۔
اسی طرح مسجد کی گنجائش 750 نمازیوں سے بڑھ کر 779 نمازیوں تک ہو گئی ہے۔
یہ توسیع اور ترقی جدید تکنیکی طریقوں کے ذریعے کی گئی جبکہ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ مسجد کو اس کی ابتدائی شکل اور تاریخی شناخت کے مطابق ہی بحال کیا جائے۔
مسجد کی تعمیر و ترقی میں بحیرہ احمر کے روایتی طرزِ تعمیر کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے قدرتی تعمیراتی مواد جیسے پتھر، مٹی اور تنکے استعمال کیے گئے جبکہ عمارت کے نمایاں حصوں میں لکڑی کے روایتی روشن دان اور مشربیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔
ضباء کے تاریخی تجارتی روابط کے باعث ماضی میں مختلف اقسام کے پتھر اور لکڑی تعمیرات کے لیے یہاں لائے جاتے تھے، جنہوں نے مسجد کی عمارت کی بنیادی ساخت تشکیل دی۔ اس کے علاوہ قدرتی تراشے گئے پتھروں کا بھی استعمال کیا گیا۔
یہ منصوبہ روایتی تعمیراتی اصولوں اور جدید انجینئرنگ تکنیکوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ مساجد کی عمارتیں زیادہ پائیدار بن سکیں اور ان کی تاریخی خصوصیات بھی محفوظ رہیں۔
اس مقصد کے لیے تعمیراتی کام سعودی عرب کی ان کمپنیوں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے جو تاریخی عمارتوں کی مرمت اور بحالی میں مہارت رکھتی ہیں، جبکہ منصوبے کی نگرانی سعودی انجینئرز کر رہے ہیں تاکہ ہر مسجد کی تاریخی اور ثقافتی شناخت محفوظ رہے۔
پروجیکٹ شہزادہ محمد بن سلمان 4 بنیادی اسٹریٹیجک مقاصد پر مبنی ہے، جن میں تاریخی مساجد کو عبادت کے لیے دوبارہ فعال بنانا، ان کی اصل تعمیراتی شناخت کو بحال کرنا، سعودی عرب کے تہذیبی اور ثقافتی پہلو کو نمایاں کرنا اور تاریخی مساجد کی مذہبی و ثقافتی اہمیت کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
اس منصوبے کا مقصد مملکت کے تعمیراتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔