مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایک تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ خطے کی طرف روانہ کرنے کی تیاری میں ہے جس کی قیادت امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کرے گا۔
فوکس نیوز کے مطابق تیسرا طیارہ بردار بیڑہ بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور جلد اسے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف جنگی صورتحال کے تناظر میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
یاد رہے کہ اس وقت بھی امریکا کے 2 طیارہ بردار جہاز خطے میں موجود ہیں۔
طیارہ بردار یو ایس ایس ابراہام لنکن ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی مشترکہ کارروائیوں کے لیے علاقے میں تعینات ہے جبکہ دوسرا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اس وقت بحیرہ احمر میں موجود ہے۔
اُدھر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع مزید پھیلتا ہے تو امریکی فوج کی 82ویں بری لڑاکا ڈویژن کو بھی مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا سکتا ہے۔
یہ ڈویژن امریکی فوج کی اہم تیز رفتار کارروائی کرنے والی فورسز میں شمار ہوتی ہے اور ہنگامی حالات میں فوری تعیناتی کے لیے جانی جاتی ہے۔
دوسری جانب لندن میں بھی ایران سے متعلق صورتحال کے باعث احتجاجی سرگرمیوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق آج ہفتے کے روز امریکہ و ایرانی سفارت خانوں کے قریب مظاہرے متوقع ہیں جس کے پیش نظر پولیس نے شہر میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی ’پلیٹ فارم فار فریڈم‘ کے زیر اہتمام وائٹ ہال سے شروع ہو کر کینسنگٹن روڈ تک جائے گی۔
یہ مقام نائٹس برج میں ہائیڈ پارک کے قریب واقع ہے جہاں ایرانی سفارت خانہ بھی موجود ہے۔
اسی دوران ایک الگ مظاہرہ بھی کیا جائے گا جس میں کئی تنظیمیں شامل ہوں گی جن میں کیمپین فار نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ، اسٹاپ دی وار کولیشن اور فلسطین یکجہتی مہم شامل ہیں۔
اس ریلی کا آغاز میل بینک سے ہوگا اور مظاہرین امریکا کے سفارت خانے تک مارچ کریں گے جہاں ایران پر حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
دریں اثنا میٹروپولیٹن پولیس لندن نے مظاہروں کے لیے شرائط عائد کی ہیں کہ مظاہرین کو مخصوص سڑکوں تک محدود رہنا ہوگا اور تمام جلوس آج گرینچ کے وقت کے مطابق شام 5 بجے تک ختم کرنا ہوں گے۔
اسی طرح اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی ایرانی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران موسیقی، تقاریر یا دیگر سرگرمیوں کے لیے آواز بڑھانے والے آلات اور موسیقی کے ساز استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ قریبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
پولیس حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں لندن کے اہم مقامات اور ان کمیونٹیز کے اطراف گشت بڑھا دیا گیا ہے جو ایسے مظاہروں سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔