آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ مونگ پھلی گری دار میوہ جات میں پروٹین کے لیے سب سے بہتر سمجھی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ آپ کے دل کا بھی خیال رکھتی ہے۔
خشک میوہ جات اور بیج قدرت کی جانب سے غذائی اجزا سے بھرپور ایسی نعمتیں ہیں جو جو پروٹین، وٹامنز، معدنیات اور فائبر کی اچھی مقدار فراہم کرتی ہیں۔
معروف ماہرِ عقاقیر (جڑی بوٹیوں کے ماہر) اور پروفیسر ڈاکٹر جابر القحطانی کے مطابق مونگ پھلی (جسے عربی میں فول سودانی بھی کہتے ہیں) پروٹین کے اعتبار سے تمام میوہ جات میں سرفہرست ہے، تاہم اس کا استعمال اعتدال میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہیے تاکہ صحت کو بہتر طور پر فائدہ پہنچایا جا سکے۔
غذائی اہمیت
ڈاکٹر جابر القحطانی کے مطابق مونگ پھلی میں اگرچہ براہِ راست علاج کی کوئی خاص خصوصیت نہیں، مگر غذائیت کے لحاظ سے یہ نہایت اہم میوہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مونگ پھلی کے ایک تہائی کپ میں 11 گرام سے زائد پروٹین موجود ہوتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا تقریباً 22 فیصد بنتا ہے۔
یہ مقدار اتنی ہی مقدار کے گوشت یا مچھلی میں پائے جانے والے پروٹین سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مونگ پھلی کا پروٹین ایک مکمل پروٹین ہے، جس میں تمام ضروری امینو ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔
دیگر میوہ جات میں پروٹین کی مقدار
ڈاکٹر جابر القحطانی کا کہنا ہے کہ برازیلی نٹس، امریکی کاجو، اخروٹ اور بادام بھی پروٹین کے اچھے ذرائع ہیں۔
ان میوہ جات کے ایک تہائی کپ میں کم از کم 6 گرام پروٹین پایا جاتا ہے، جو روزمرہ غذائی ضرورت پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔
فائبر سے بھرپور
انہوں نے بتایا کہ تمام اقسام کے میوہ جات فائبر سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ عام طور پر ایک تہائی کپ میوہ جات میں 1 سے 2 گرام فائبر موجود ہوتا ہے، تاہم پستہ فائبر کے لحاظ سے سب سے نمایاں ہے، جس میں ایک تہائی کپ کے حساب سے تقریباً 5 گرام فائبر پایا جاتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔
اس کے بعد بادام کا نمبر آتا ہے، جس میں تقریباً 6 گرام فائبر ہوتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا لگ بھگ 24 فیصد بنتا ہے۔
وٹامن ای اور دل کی صحت
ڈاکٹر جابر القحطانی نے کہا کہ میوہ جات اور بیج وٹامن ای کے بہترین قدرتی ذرائع ہیں، جو خون کے سرخ خلیات اور پٹھوں کے ٹشوز کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وٹامن ای ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے، جو دل کے امراض سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
القحطانی کے مطابق پہاڑی بادام کے آدھے کپ میں جسم کی روزانہ وٹامن ای کی ضرورت سے دو گنا سے بھی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔
اعتدال اور احتیاط ضروری ہے
ماہر عقاقیر نے زور دیا کہ اگرچہ میوہ جات میں صحت بخش چکنائیاں موجود ہوتی ہیں، مگر ان کا استعمال حد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر میوہ جات زیادہ مقدار میں استعمال کیے جائیں تو اس کے ساتھ کم صحت مند چکنائیوں جیسے گھی، مکھن، صنعتی ہائیڈروجنیٹڈ گھی اور غذائیت سے خالی اسنیکس جیسے چپس اور کیک کا استعمال کم کر دینا چاہیے۔
ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ مناسب مقدار میں میوہ جات اور بیجوں کا استعمال نہ صرف جسم کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرتا ہے بلکہ دل کی صحت کو بہتر بنانے اور مجموعی صحت کے تحفظ میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔