جدید دنیا کی
اصل ’شریانیں‘
اب دریا نہیں
بلکہ بجلی اور
ڈیٹا نیٹ ورکس
بن چکے ہیں
2019 میں وینزویلا کا ملک گیر بلیک آؤٹ اس کی خوفناک مثال تھا۔
کئی دن تک جاری رہنے والے اندھیرے نے معیشت کو روزانہ تقریباً 200 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا مگر اصل تباہی انسانی جانوں کی تھی۔ اسپتالوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث متعدد مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ’تار‘ صرف ایک دھات نہیں بلکہ تہذیب اور بربریت کے درمیان آخری دیوار بن چکا ہے۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ صنعتی انقلاب کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی پیدا کرنا تھا مگر اصل چیلنج اسے دور تک پہنچانا تھا۔
19 ویں صدی کے آخر میں نیویارک ایک عظیم سائنسی جنگ کا میدان بنا۔
ایک طرف تھامس ایڈیسن تھا، جو ’ڈائریکٹ کرنٹ‘ DC کا حامی تھا، جبکہ دوسری طرف نکولا ٹیسلا تھا، جس نے ’الٹرنیٹنگ کرنٹ‘ AC کا تصور پیش کیا۔
ایڈیسن کا DC نظام بجلی کو زیادہ فاصلے تک منتقل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ تاروں میں مزاحمت کی وجہ سے توانائی ضائع ہو جاتی تھی۔
اس کا مطلب تھا کہ ہر چند کلومیٹر بعد الگ پاور اسٹیشن بنانا پڑتا۔
لیکن ٹیسلا نے ٹرانسفارمر کے ذریعے AC نظام متعارف کرایا، جس میں وولٹیج کو بہت زیادہ بڑھا کر توانائی کو سینکڑوں کلومیٹر دور تک پہنچایا جا سکتا تھا۔
اس ایجاد نے دنیا بدل دی۔
آج دنیا بھر میں نظر آنے والے بجلی کے بڑے بڑے ٹاور اسی انقلاب کی پیداوار ہیں۔
اب تو چین جیسے ممالک ’الٹرا ہائی وولٹیج‘ نیٹ ورکس استعمال کر رہے ہیں، جو 1100 کلو وولٹ تک بجلی ہزاروں کلومیٹر دور منتقل کرتے ہیں۔
جب تاروں نے انسانوں کی آوازیں اٹھائیں
بجلی نے صنعتوں کو طاقت دی لیکن انسان صرف مشینیں نہیں چلانا چاہتا تھا، وہ جذبات اور خیالات بھی منتقل کرنا چاہتا تھا۔
1876 میں الیگزینڈر گراہم بیل نے تاریخ کی پہلی ٹیلی فون کال کی اور اپنے معاون سے کہا ’واٹسن، یہاں آؤ، مجھے تمہاری ضرورت ہے‘۔
یہ لمحہ صرف ایک ایجاد نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں فوری رابطے کے دور کا آغاز تھا۔
تانبے کی تاریں اب صرف بجلی نہیں بلکہ انسانی آواز بھی لے جانے لگیں۔
جلد ہی دنیا کے شہروں میں ٹیلیفون نیٹ ورکس پھیل گئے اور فاصلے سمٹنے لگے۔
پھر کمپیوٹر آئے، انٹرنیٹ آیا اور انہی تاروں سے ’ڈیٹا‘ منتقل ہونے لگا لیکن جلد ہی واضح ہو گیا کہ تانبہ ڈیجیٹل دنیا کے لیے کافی نہیں۔
انسان کی رفتار اور معلومات کی بھوک کہیں زیادہ بڑھ چکی تھی۔
وینزویلا کے
بلیک آؤٹ نے
دکھایا کہ
بجلی کا خاتمہ
انسانی جانوں کے
لیے کتنا خطرناک
ہو سکتا ہے
سمندر کے نیچے شیشے کی شریانیں
دنیا کو حقیقی معنوں میں ’گلوبل ولیج‘ بنانے کے لیے براعظموں کو جوڑنا ضروری تھا۔
1858 میں پہلی بار بحرِ اوقیانوس کے نیچے ٹیلی گراف کیبل بچھانے کی کوشش کی گئی۔
اس وقت لکڑی کے جہاز طوفانی سمندروں میں ایک موٹی تار بچھا رہے تھے، جو درختی گوند سے محفوظ کی گئی تھی۔
یہ منصوبہ تکنیکی طور پر محدود تھا مگر اس کی علامتی اہمیت بے مثال تھی۔
ملکہ وکٹوریہ کا امریکی صدر جیمز بُوکینن
کو بھیجا گیا پیغام 16 گھنٹے بعد پہنچا مگر دنیا نے پہلی بار سمندر کے پار فوری رابطہ دیکھا۔
آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔
اب سمندروں کے نیچے ’فائبر آپٹکس‘ بچھے ہوئے ہیں۔
یہ انسانی بال جتنے باریک شیشے کے ریشے ہوتے ہیں، جن میں بجلی نہیں بلکہ روشنی سفر کرتی ہے۔
یہ روشنی شیشے کے اندر ’مکمل داخلی انعکاس‘ کے اصول کے تحت دوڑتی رہتی ہے اور حیرت انگیز رفتار سے ڈیٹا منتقل کرتی ہے۔
حیران کن حقائق
دنیا کے مشہور ’MAREA‘ کیبل کے ذریعے امریکہ اور اسپین کے درمیان ایک سیکنڈ میں 26.2 ٹیرا بائٹس ڈیٹا منتقل ہو سکتا ہے۔
یعنی لاکھوں فلمیں یا کروڑوں ویڈیو کالز ایک ہی لمحے میں۔
آج دنیا بھر میں 550 سے زائد فعال زیرِ سمندر کیبلز موجود ہیں جن کی مجموعی لمبائی 14 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
یہ لمبائی زمین کے گرد 35 بار چکر لگانے کے برابر بنتی ہے۔
کچھ کیبلز 8000 میٹر گہرائی میں پڑی ہیں، جہاں ہزاروں ٹن پانی کا دباؤ ہوتا ہے۔
انہیں اسٹیل اور پلاسٹک کی مضبوط تہوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ شارک مچھلیوں یا جہازوں کے اینکرز سے نقصان نہ پہنچے۔
دنیا کی اصل طاقت کہاں ہے؟
زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ سیٹلائٹس کے ذریعے چلتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے 99 فیصد ڈیٹا کی ترسیل انہی سمندری کیبلز سے ہوتی ہے۔
سیٹلائٹس صرف ایک فیصد ڈیٹا سنبھالتے ہیں اور وہ بھی زیادہ تر دور دراز علاقوں یا فوجی مقاصد کے لیے۔
دنیا کے 99 فیصد
انٹرنیٹ ڈیٹا کی
ترسیل سمندر کے
نیچے بچھے فائبر
آپٹک کیبلز سے
ہوتی ہے
اسی لیے ’کیبل لینڈنگ اسٹیشنز‘ آج دنیا کے اہم ترین اسٹریٹجک مقامات بن چکے ہیں۔
مصر، جبوتی اور سنگاپور جیسے ممالک اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ عالمی ڈیٹا کی بڑی مقدار ان کے ذریعے گزرتی ہے۔
ان شریانوں پر کنٹرول کا مطلب صرف انٹرنیٹ کنٹرول کرنا نہیں بلکہ عالمی معیشت، اطلاعات اور سیاست پر اثر انداز ہونا بھی ہے۔
بین الاقوامی بینکنگ، اسٹاک مارکیٹس اور SWIFT جیسے مالیاتی نظام روزانہ تقریباً 10 ٹریلین ڈالر کے لین دین انہی کیبلز کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔
اگر یہ نیٹ ورک چند منٹ کے لیے بھی بند ہو جائے تو عالمی مالیاتی نظام شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسی طرح امریکہ اور چین جیسے ممالک اپنے انفرااسٹرکچر بجٹ کا بڑا حصہ پاور نیٹ ورکس کی مرمت اور توانائی کے ضیاع کو کم کرنے پر خرچ کرتے ہیں، کیونکہ صرف 5 فیصد بجلی ضائع ہونا بھی اربوں ڈالر کے نقصان کا سبب بنتا ہے۔
مصنوعی ذہانت، کرپٹو کرنسی اور ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے استعمال کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں سمندری کیبلز کی صلاحیت میں ہر سال 40 فیصد اضافہ کرنا پڑے گا۔
کیا دنیا تاروں سے آزاد ہو سکے گی؟
سائنسدان طویل عرصے سے ’وائرلیس دنیا‘ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
نکولا ٹیسلا نے ’وارڈنکلف ٹاور‘ کے ذریعے ہوا میں توانائی منتقل کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔
آج ایلون مسک کی SpaceX کمپنی اسٹار لنک کے ذریعے ہزاروں چھوٹے سیٹلائٹس سے عالمی انٹرنیٹ نیٹ ورک بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسی طرح ناسا خلا سے زمین پر شمسی توانائی منتقل کرنے کے تجربات کر رہی ہے۔
لیکن تمام ترقی کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ زمینی اور سمندری شریانیں اب بھی سب سے زیادہ طاقتور، تیز اور قابلِ اعتماد ہیں۔
فائبر آپٹکس خلا سے آنے والے سگنلز سے ہزاروں گنا تیز ہیں، جبکہ بجلی کے ٹاور آج بھی وائرلیس نظاموں سے کہیں زیادہ مؤثر طریقے سے توانائی منتقل کرتے ہیں۔
یہ تاریں اور کیبلز ہی ہماری جدید تہذیب کی اصل نبض ہیں۔
ہر روشنی کی چمک، ہر برقی گونج اور ہر ڈیجیٹل سگنل اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ انسان آج ایک ایسی دنیا میں زندہ ہے، جہاں زمین کے نیچے اور سمندروں کی تہوں میں پھیلی ہوئی شریانیں پوری تہذیب کو زندگی فراہم کر رہی ہیں۔
بشکریہ: الجزیرہ نیٹ ورک