مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
برینٹ خام تیل 111 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا جبکہ امریکی خام تیل نے بھی کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح چھو لی۔
امارات کے براکہ جوہری پلانٹ پر ڈرون حملے، آبنائے ہرمز میں خطرات اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کی خبروں نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
امارات کے اندر حساس تنصیبات پر حملوں اور واشنگٹن و تہران کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے نے بھی منڈیوں میں بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔
اماراتی حکام نے تصدیق کی کہ براکہ جوہری توانائی پلانٹ پر ہونے والے حملے کے ذرائع کی تحقیقات جاری ہیں، اور متحدہ عرب امارات کو ایسے دہشت گرد حملوں کا بھرپور جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
العربیہ کے مطابق مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے کہا کہ ڈرون حملے دراصل ایک واضح انتباہ ہیں کہ اگر ایران پر دوبارہ امریکی یا اسرائیلی حملے کیے گئے تو خلیج میں توانائی کے مراکز اور اہم انفراسٹرکچر مزید حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں، چاہے وہ ایران کی جانب سے ہوں یا اس کے اتحادی گروپوں کی طرف سے۔