ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند کل باآسانی نظر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ ماہرین فلکیات کے مطابق اس مرتبہ ہلال کا افق پر طویل وقت تک موجود رہنا ایک غیر معمولی فلکیاتی صورتحال تصور کی جا رہی ہے۔
مجمعہ یونیورسٹی کی فلکیاتی رصدگاہ کے ڈائریکر عبداللہ الخضیری نے کہا ہے کہ موجودہ موسمی حالات رویتِ ہلال کے لیے انتہائی سازگار ہیں اور مختلف علاقوں میں چاند واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔
ان کے مطابق جکارتہ سے مراکش تک پھیلے وسیع خطے میں ہلال کی رویت متوقع ہے، جبکہ سعودی عرب میں اس کے دیکھے جانے کے امکانات سب سے زیادہ مضبوط ہیں۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق الخضیری نے وضاحت کی کہ آسمان صاف ہے اور گھنے بادل موجود نہیں، جبکہ افق پر ہلکی بادلوں کی تہہ بھی چاند کی رویت میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہلال تقریباً ایک گھنٹہ یا اس سے کچھ زیادہ وقت تک افق پر باقی رہے گا، جو دنیا بھر
میں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہلال کا طویل وقت تک افق پر موجود رہنا اس بات کی علامت ہے کہ چاند نسبتاً واضح اور آسانی سے دیکھا جا سکے گا۔
جکارتہ میں چاند تقریباً 50 منٹ تک افق میں ہوگا، جبکہ مغرب کی جانب بڑھنے کے ساتھ اس کا دورانیہ مزید بڑھتا جائے گا۔
سعودی عرب میں یہ مدت کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوگی، جس سے رویتِ ہلال کے امکانات مزید مضبوط ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چاند کی بلندی افق سے 12 سے 17 ڈگری کے درمیان ہوگی، اور یہ زاویہ فلکیاتی مشاہدے کے لیے نہایت موزوں سمجھا جاتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق جب ہلال زیادہ بلندی پر ہو اور افق پر زیادہ دیر تک رہے تو اسے انسانی آنکھ یا جدید دوربینوں کے ذریعے دیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔