اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

موت بانٹنے والا عالمی مافیا بے نقاب، لاکھوں جعلی ادویہ ضبط

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جعلی ادویات افریقہ
انٹرپول نے 90 ممالک میں مشترکہ آپریشن کیا

انٹرپول نے 90 ممالک میں مشترکہ کارروائی کے دوران لاکھوں جعلی اور غیر قانونی ادویات ضبط کر کے درجنوں جرائم پیشہ گروہوں کو بے نقاب کیا۔
افریقہ میں خاص طور پر اینٹی بائیوٹکس، درد کش ادویات اور ملیریا کی جعلی دواؤں کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ سامنے آئی جبکہ ماہرین نے اسے صحتِ عامہ کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا۔

انٹرپول کی قیادت میں ہونے والے ایک بین الاقوامی سکیورٹی آپریشن، جس میں 90 ممالک اور خطوں نے حصہ لیا، نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جعلی بنیادی ادویات افریقی ممالک کی غیر رسمی منڈیوں میں تیزی سے پھیل رہی ہیں جبکہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس صحت کے نگرانی نظام کی کمزوریوں اور آن لائن فروخت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ممکنہ طور پر جان لیوا مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔

ادارے نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’آپریشن پینجیا 18‘ نامی یہ کارروائی، جو گزشتہ مارچ کی 10 سے 23 تاریخ تک جاری رہی، کے دوران 64 لاکھ 20 ہزار سے زائد جعلی اور غیر لائسنس یافتہ ادویات کی خوراکیں ضبط کی گئیں، جن کی مالیت تقریباً 15.5 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ 

hand in blue glove holds various pills 2026 03 25 04 45 27 utc
64 لاکھ سے زائد جعلی اور غیر قانونی ادویات ضبط کی گئیں

اس کے علاوہ 269 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 66 جرائم پیشہ گروہوں کو توڑا گیا، جو غیر قانونی ادویات کی تجارت میں ملوث تھے۔

بیان کے مطابق شریک ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 392 تحقیقات شروع کیں اور 158 سرچ وارنٹ پر عمل درآمد کیا، جبکہ آپریشن کے ڈیجیٹل حصے کے دوران تقریباً 5700 ویب سائٹس، سوشل میڈیا صفحات اور خودکار بوٹس بند کیے گئے، جو غیر قانونی ادویات کی تشہیر اور فروخت کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

افریقہ: بنیادی ادویات کو نشانہ بنایا گیا

بیان کے مطابق اس آپریشن کے موجودہ مرحلے میں 12 افریقی ممالک نے حصہ لیا۔ 

افریقہ میں ضبط کی گئی ادویات نے دنیا کے دیگر خطوں سے مختلف رجحان ظاہر کیا، کیونکہ یہاں بنیادی طور پر درد کش ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور ملیریا کی ادویات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

pharmacy interior with blurred background wooden 2026 03 17 07 21 34 utc
کارروائی کے دوران 269 افراد گرفتار اور 66 جرائم پیشہ گروہ توڑے گئے

انٹرپول نے بتایا کہ جرائم پیشہ گروہ یہ ادویات زیادہ تر غیر رسمی بازاروں میں فروخت کرتے ہیں، کیونکہ ان علاقوں میں کم قیمت علاج کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ 

بیان میں ان ادویات کو ’غیر معیاری، جعلی، زائد المیعاد، ناقص طریقے سے محفوظ شدہ یا بنیادی حفاظتی معلومات سے خالی‘ قرار دیا گیا۔

کچھ مخصوص واقعات میں برکینا فاسو میں حکام نے 3 لاکھ 84 ہزار اینٹی بائیوٹک کیپسول ضبط کیے، جبکہ آئیوری کوسٹ میں ایک ہی گاڑی سے ایک ٹن جعلی ’آئیبوپروفین‘ برآمد کیا گیا۔

 اسی طرح کیمرون میں ہزاروں بوتلیں ملیریا اور اینٹی بائیوٹک ادویات کی پکڑی گئیں، جن کے جعلی ہونے کا شبہ ہے۔

غیر قانونی ادویات کی سب سے زیادہ ضبطگی والے ممالک کی عالمی فہرست میں برکینا فاسو چوتھے نمبر پر رہا، جہاں 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد خوراکیں ضبط کی گئیں۔

assortment of colorful medicine on a blue table 2026 03 19 23 07 24 utc
کارروائی کے دوران 269 افراد گرفتار اور 66 جرائم پیشہ گروہ توڑے گئے

سیاہ معیشت اور آن لائن تجارت

بیان میں ذمہ دار نے کہا ہے کہ جعلی ادویات صرف دھوکہ دہی نہیں بلکہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجرم ڈیجیٹل مارکیٹس اور غیر رسمی سپلائی چینز کے ذریعے نگرانی کے نظام میں موجود خلا سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور ایسے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو فوری یا سستا علاج تلاش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ اس کے نتائج سنگین بلکہ مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔

انٹرپول کے مطابق عالمی سطح پر سب سے زیادہ ضبط ہونے والی ادویات میں جنسی کمزوری کی دوائیں، نیند آور گولیاں، درد کش ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور تمباکو نوشی چھوڑنے کی مصنوعات شامل تھیں۔ 

اس کے علاوہ ’آئیورمیکٹن‘ اور ’فین بینڈازول‘ جیسی طفیلی امراض کی ادویات دوبارہ نمایاں ہو رہی ہیں، جنہیں انٹرنیٹ پر کینسر کے متبادل علاج کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، حالانکہ صحت کے حکام بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ان دعوؤں کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔

pills and liquid medicine on a light blue surface 2026 03 10 03 19 15 utc
افریقہ میں اینٹی بائیوٹکس، درد کش ادویات اور ملیریا کی جعلی دوائیں بڑے پیمانے پر پکڑی گئیں

آپریشن کے دوران وزن کم کرنے والی ادویات کی بڑھتی ہوئی طلب بھی سامنے آئی۔ 

ان ادویات کی غیر قانونی نقول آن لائن صرف 10 ڈالر تک میں فروخت کی جا رہی تھیں۔ 

بعض ضبط شدہ نمونوں میں ’سیبوٹرامین‘ نامی ممنوعہ مادہ پایا گیا، جو کئی ممالک میں دل کے دورے اور فالج کے خطرات کے باعث ممنوع ہے۔

انٹرپول گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے ہر سال ’آپریشن پینجیا‘ منعقد کرتا آ رہا ہے، جس کا خاص ہدف غیر قانونی ادویات کی آن لائن فروخت ہوتی ہے۔ 

بیان میں کہا گیا کہ اس آپریشن کو عالمی ادارہ صحت، عالمی کسٹمز تنظیم، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم، یورپی انسدادِ فراڈ دفتر، عالمی پوسٹل یونین اور مختلف قومی دوا ساز ریگولیٹری اداروں کی حمایت حاصل تھی۔

اگرچہ انٹرپول نے افریقہ میں جعلی ادویات سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے تاہم عالمی ادارہ صحت مسلسل خبردار کرتا رہا ہے کہ غیر معیاری اور جعلی طبی مصنوعات کم آمدنی والے ممالک میں صحتِ عامہ کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں، خاص طور پر ملیریا اور اینٹی بائیوٹکس کی ادویات کے حوالے سے۔

close up of pills and capsule on senior women s ha 2026 03 16 03 24 33 utc
تقریباً 5700 ویب سائٹس، سوشل میڈیا صفحات اور بوٹس بند کیے گئے

اس آپریشن کے نتائج افریقہ میں جاری ادویاتی بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں نگرانی کے کمزور نظام، مریضوں کی کم خریداری قوت اور قابو سے باہر غیر رسمی منڈیوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔