انٹرپول نے 90 ممالک میں مشترکہ کارروائی کے دوران لاکھوں جعلی اور غیر قانونی ادویات ضبط کر کے درجنوں جرائم پیشہ گروہوں کو بے نقاب کیا۔
افریقہ میں خاص طور پر اینٹی بائیوٹکس، درد کش ادویات اور ملیریا کی جعلی دواؤں کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ سامنے آئی جبکہ ماہرین نے اسے صحتِ عامہ کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا۔
انٹرپول کی قیادت میں ہونے والے ایک بین الاقوامی سکیورٹی آپریشن، جس میں 90 ممالک اور خطوں نے حصہ لیا، نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جعلی بنیادی ادویات افریقی ممالک کی غیر رسمی منڈیوں میں تیزی سے پھیل رہی ہیں جبکہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس صحت کے نگرانی نظام کی کمزوریوں اور آن لائن فروخت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ممکنہ طور پر جان لیوا مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔
ادارے نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’آپریشن پینجیا 18‘ نامی یہ کارروائی، جو گزشتہ مارچ کی 10 سے 23 تاریخ تک جاری رہی، کے دوران 64 لاکھ 20 ہزار سے زائد جعلی اور غیر لائسنس یافتہ ادویات کی خوراکیں ضبط کی گئیں، جن کی مالیت تقریباً 15.5 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ 269 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 66 جرائم پیشہ گروہوں کو توڑا گیا، جو غیر قانونی ادویات کی تجارت میں ملوث تھے۔
بیان کے مطابق شریک ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 392 تحقیقات شروع کیں اور 158 سرچ وارنٹ پر عمل درآمد کیا، جبکہ آپریشن کے ڈیجیٹل حصے کے دوران تقریباً 5700 ویب سائٹس، سوشل میڈیا صفحات اور خودکار بوٹس بند کیے گئے، جو غیر قانونی ادویات کی تشہیر اور فروخت کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
افریقہ: بنیادی ادویات کو نشانہ بنایا گیا
بیان کے مطابق اس آپریشن کے موجودہ مرحلے میں 12 افریقی ممالک نے حصہ لیا۔
افریقہ میں ضبط کی گئی ادویات نے دنیا کے دیگر خطوں سے مختلف رجحان ظاہر کیا، کیونکہ یہاں بنیادی طور پر درد کش ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور ملیریا کی ادویات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
انٹرپول نے بتایا کہ جرائم پیشہ گروہ یہ ادویات زیادہ تر غیر رسمی بازاروں میں فروخت کرتے ہیں، کیونکہ ان علاقوں میں کم قیمت علاج کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
بیان میں ان ادویات کو ’غیر معیاری، جعلی، زائد المیعاد، ناقص طریقے سے محفوظ شدہ یا بنیادی حفاظتی معلومات سے خالی‘ قرار دیا گیا۔
کچھ مخصوص واقعات میں برکینا فاسو میں حکام نے 3 لاکھ 84 ہزار اینٹی بائیوٹک کیپسول ضبط کیے، جبکہ آئیوری کوسٹ میں ایک ہی گاڑی سے ایک ٹن جعلی ’آئیبوپروفین‘ برآمد کیا گیا۔
اسی طرح کیمرون میں ہزاروں بوتلیں ملیریا اور اینٹی بائیوٹک ادویات کی پکڑی گئیں، جن کے جعلی ہونے کا شبہ ہے۔
غیر قانونی ادویات کی سب سے زیادہ ضبطگی والے ممالک کی عالمی فہرست میں برکینا فاسو چوتھے نمبر پر رہا، جہاں 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد خوراکیں ضبط کی گئیں۔
سیاہ معیشت اور آن لائن تجارت
بیان میں ذمہ دار نے کہا ہے کہ جعلی ادویات صرف دھوکہ دہی نہیں بلکہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجرم ڈیجیٹل مارکیٹس اور غیر رسمی سپلائی چینز کے ذریعے نگرانی کے نظام میں موجود خلا سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور ایسے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو فوری یا سستا علاج تلاش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ اس کے نتائج سنگین بلکہ مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔
انٹرپول کے مطابق عالمی سطح پر سب سے زیادہ ضبط ہونے والی ادویات میں جنسی کمزوری کی دوائیں، نیند آور گولیاں، درد کش ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور تمباکو نوشی چھوڑنے کی مصنوعات شامل تھیں۔
اس کے علاوہ ’آئیورمیکٹن‘ اور ’فین بینڈازول‘ جیسی طفیلی امراض کی ادویات دوبارہ نمایاں ہو رہی ہیں، جنہیں انٹرنیٹ پر کینسر کے متبادل علاج کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، حالانکہ صحت کے حکام بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ان دعوؤں کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔
آپریشن کے دوران وزن کم کرنے والی ادویات کی بڑھتی ہوئی طلب بھی سامنے آئی۔
ان ادویات کی غیر قانونی نقول آن لائن صرف 10 ڈالر تک میں فروخت کی جا رہی تھیں۔
بعض ضبط شدہ نمونوں میں ’سیبوٹرامین‘ نامی ممنوعہ مادہ پایا گیا، جو کئی ممالک میں دل کے دورے اور فالج کے خطرات کے باعث ممنوع ہے۔
انٹرپول گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے ہر سال ’آپریشن پینجیا‘ منعقد کرتا آ رہا ہے، جس کا خاص ہدف غیر قانونی ادویات کی آن لائن فروخت ہوتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس آپریشن کو عالمی ادارہ صحت، عالمی کسٹمز تنظیم، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم، یورپی انسدادِ فراڈ دفتر، عالمی پوسٹل یونین اور مختلف قومی دوا ساز ریگولیٹری اداروں کی حمایت حاصل تھی۔
اگرچہ انٹرپول نے افریقہ میں جعلی ادویات سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے تاہم عالمی ادارہ صحت مسلسل خبردار کرتا رہا ہے کہ غیر معیاری اور جعلی طبی مصنوعات کم آمدنی والے ممالک میں صحتِ عامہ کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں، خاص طور پر ملیریا اور اینٹی بائیوٹکس کی ادویات کے حوالے سے۔
اس آپریشن کے نتائج افریقہ میں جاری ادویاتی بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں نگرانی کے کمزور نظام، مریضوں کی کم خریداری قوت اور قابو سے باہر غیر رسمی منڈیوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔