سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں موجود ماحولیاتی تنوع فوٹوگرافروں کے لیے سنہری مواقع پیدا کر رہا ہے جس کے باعث وہ پرندوں کی سالانہ ہجرت اور مقامی پرندوں کی رہائش گاہوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔
ہر سال ہونے والی ہجرت اور پرندوں کا مقامی ماحول سے مانوس ہونا اس دلچسپی کی بڑی وجہ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق فوٹوگرافر نادر الشمری اپنے اس دلچسپ تجربے کا ذکر کرتے ہیں جس کا آغاز انہوں نے 2011 میں کیا تھا۔
وہ خاص طور پر الجوف ریجن میں پرندوں کا مشاہدہ اور فوٹوگرافی پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ عسير ریجن سمیت دیگر علاقوں اور بیرونِ ملک بھی پرندوں کی ریکارڈنگ کر چکے ہیں۔
الشمری کے مطابق انہوں نے الجوف میں 230 سے زائد اقسام کے پرندے ریکارڈ کئے، جبکہ سعودی عرب میں مجموعی طور پر 507 اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں، جو اس خطے کی حیاتیاتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ الجوف کا جغرافیائی تنوع اور معتدل موسم اسے پرندوں کی ہجرت کے راستے میں ایک اہم مقام بناتا ہے۔
یہاں پہاڑ، صحرا، نمکین زمینیں، اندرونی پانی کے ذخائر اور زرعی علاقے موجود ہیں، جو مختلف اقسام کے پرندوں کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔
کیمرے کی آنکھ کے ذریعے ہجرت کرنے والے اور عارضی طور پر قیام کرنے والے پرندوں کو ریکارڈ کیا جاتا ہے، جو کئی مہینوں تک مملکت میں قیام کرتے ہیں۔
اس مشاہدے کے عمل نے نہ صرف عام بلکہ نایاب پرندوں کی اقسام کو بھی دستاویزی شکل دی ہے۔
ان میں نمایاں پرندوں میں جنگلی فاختہ، تلور حباریٰ، چوڑی چونچ والی چڑیا، ہلکے رنگ کا ثبج، عقابِ طلائی، اور رات کے پرندے جیسے لمبے کانوں والا اُلو شامل ہیں، جبکہ کالا بھجنگا جیسے پرندے بھی دیکھے گئے ہیں۔
یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب، خصوصاً الجوف کا خطہ، نہ صرف ماحولیاتی اعتبار سے اہم ہے بلکہ فوٹوگرافی اور حیاتیاتی تحقیق کے لیے بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔