اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

قصیم یونیورسٹی میں قرغیز خیمہ، صدیوں پرانی خانہ بدوش تہذیب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قرغیز خیمہ
دو دن میں تیار ہونے والا خیمہ خانہ بدوش طرزِ زندگی کی علامت (فوٹو: سبق)

قصیم یونیورسٹی میں منعقدہ ’اقوام کا ثقافتی ورثہ‘ کے پانچویں میلے میں جمہوریہ کرغزستان کے گوشے کے وسط میں ایک 6 کونوں والا دلکش خیمہ ایستادہ ہے، جو اپنے رنگوں، مضبوط ساخت اور اون سے بنے ہوئے تانے بانے کے ساتھ، لکڑی کے سہارے بغیر کسی کیل کے نصب کیا گیا ہے۔ 

یہ خیمہ اپنی تفصیلات کے ذریعے وسطی ایشیا کے میدانوں میں صدیوں سے جاری طرزِ زندگی کو سمجھنے کا دروازہ کھولتا ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ خیمہ، جسے تیار کرنے میں دو دن لگے، محض ایک نمائشی شے نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ حیات کی عکاسی ہے جو آج بھی کرغز دیہی علاقوں میں موجود ہے۔ 

عربی زبان کے غیر ملکی طلبہ کے ادارے میں زیرِ تعلیم طالب علم عمار جلال الدینوف کے مطابق اس کی تعمیر لکڑی کے ٹکڑوں کو جوڑنے اور بھیڑ کی اون سے بنے دھاگوں کے ذریعے باندھنے پر مبنی ہے جو ایک 

روایتی طریقہ ہے اور نقل و حرکت ’خانہ بدوشی‘ کے مطابق اسے آسانی سے کھولا اور دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔

654654
گھڑ سواری کے آلات اور گھوڑے کا گوشت ثقافت کا اہم حصہ (فوٹو: سبق)

خیمے کے اندر روزمرہ زندگی کے عناصر اس انداز میں رکھے گئے ہیں جیسے انہیں ان کے اصل ماحول سے نکال کر یہاں پیش کیا گیا ہو۔ 

گھڑ سواری کے آلات نمایاں طور پر موجود ہیں، جن میں زین اور دیگر سازوسامان شامل ہیں، جو کرغز ثقافت میں گھوڑے کی مرکزی حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ روایتی کھانے بھی پیش کیے گئے ہیں، جن میں براؤن چاول اور گھوڑے کا گوشت شامل ہے، جو مقامی کھانوں کا اہم حصہ ہیں۔

روایتی لباس کی نمائش، زائرین کو پہننے کا
عملی تجربہ

روایتی لباس کے لیے ایک خاص گوشہ مختص کیا گیا ہے، جو اون سے تیار کیا جاتا ہے اور بڑی تقریبات، خاص طور پر شادیوں میں پہنا جاتا ہے۔
اس گوشے میں زائرین کو لباس پہننے کا عملی تجربہ بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس سے وہ محض دیکھنے کے بجائے ثقافت کو قریب سے محسوس کر سکتے ہیں۔
یہ منظر صرف ایک دور دراز ثقافت کے تعارف تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی زندہ مثال پیش کرتا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی طلبہ اپنی ثقافت کو ایک نئی فضا میں منتقل کر سکتے ہیں۔

مختلف اقوام کی ثقافتوں کا میلہ، جس میں 90 سے زائد قومیتیں 6 دن تک شرکت کرتی ہیں، اسی تنوع اور ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔

465
90 سے زائد قومیتوں کی شرکت، ثقافتی ہم آہنگی کا منفرد منظر (فوٹو: سبق)

اس گوشے میں ثقافت ایک جیتی جاگتی تجربہ بن جاتی ہے، جو مقام کی یادوں کو تازہ کرتی ہے اور انہیں زائرین کے سامنے ایک قابلِ فہم اور قابلِ شرکت شکل میں پیش کرتی ہے۔