روایتی لباس کے لیے ایک خاص گوشہ مختص کیا گیا ہے، جو اون سے تیار کیا جاتا ہے اور بڑی تقریبات، خاص طور پر شادیوں میں پہنا جاتا ہے۔
اس گوشے میں زائرین کو لباس پہننے کا عملی تجربہ بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس سے وہ محض دیکھنے کے بجائے ثقافت کو قریب سے محسوس کر سکتے ہیں۔
یہ منظر صرف ایک دور دراز ثقافت کے تعارف تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی زندہ مثال پیش کرتا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی طلبہ اپنی ثقافت کو ایک نئی فضا میں منتقل کر سکتے ہیں۔
قصیم یونیورسٹی میں قرغیز خیمہ، صدیوں پرانی خانہ بدوش تہذیب
Overseas Post