اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ہوائی سفر میں انقلاب: ہلکی سیٹیں، کم ایندھن، زیادہ آرام

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کاربن فائبر سیٹس
کاربن فائبر سیٹس سے وزن میں بڑی کمی ہوگی (فوٹو: سبق)

عالمی ہوا بازی کی صنعت اکانومی کلاس نشستوں کے ڈیزائن میں نئے مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں مقصد صرف مسافروں کی آرام دہ سہولت کو بہتر بنانا نہیں بلکہ طیاروں کا وزن کم کرنا، ایندھن کی کھپت گھٹانا اور کاربن اخراج میں کمی لانا بھی شامل ہے۔ 

اسی تناظر میں یورپی ایئرلائن ایزی جٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2028 سے اپنے جدید طیاروں Airbus A320neo اور Airbus A321neo میں انتہائی ہلکی نئی اکانومی سیٹس نصب کرے گی، جو برطانوی کمپنی Mirus Aircraft Seating تیار کرے گی۔

مزید پڑھیں

ان نئی نشستوں کو Kestrel نام دیا گیا ہے اور یہ کاربن فائبر سے تیار کی گئی ہیں، جسے عام طور پر ’کاربن فائبر‘ کہا جاتا ہے۔ 

یہ ایک جدید مادہ ہے جو ہوا بازی، اسپورٹس کاروں، پیشہ ورانہ سائیکلوں اور خلائی صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، کیونکہ یہ روایتی دھاتوں اور پلاسٹک کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور ہلکا ہوتا ہے جس پر بیٹھنے سے زیادہ آرام ملتا ہے۔

ایزی جیٹ کے مطابق یہ نشستیں موجودہ سیٹوں کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ ہلکی ہوں گی، جس سے بعض بڑے طیاروں میں تقریباً 500 کلوگرام وزن کم کیا جا سکتا ہے۔ 

ہوا بازی کی دنیا میں یہ ایک بڑا فرق ہے، کیونکہ ہر اضافی کلوگرام ہزاروں پروازوں کے دوران اضافی ایندھن خرچ کا باعث بنتا ہے۔

4564654
نئی کاربن فائبر سیٹس 20٪ تک ہلکی، طیارے کا وزن نمایاں کم (فوٹو: سبق)

کاربن فائبر کیا ہے؟

کاربن فائبر ایک مرکب مادہ ہے جو انتہائی باریک کاربن ریشوں سے بنتا ہے، جنہیں رال resin کے ساتھ ملا کر مضبوط اور ہلکے ڈھانچے تیار کیے جاتے ہیں۔ 

یہ مادہ مضبوطی اور ہلکے پن کا منفرد امتزاج پیش کرتا ہے، اسی لیے اسے جدید صنعتوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

ہر طیارے میں
تقریباً 500 کلوگرام
تک وزن کی
بچت ممکن

طیاروں میں اس مادے کی اہمیت اس کے ظاہری شکل سے زیادہ اس کی کارکردگی پر اثر سے جڑی ہوتی ہے۔
جتنا وزن کم ہوگا، اتنی ہی ایندھن کی بچت ہوگی، کاربن اخراج کم ہوگا اور ایئرلائنز اپنے اخراجات بہتر انداز میں کنٹرول کر سکیں گی۔
یہ نئی نشستیں صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ مسافروں کو زیادہ جگہ بھی فراہم کریں گی۔
ایزی جیٹ کے مطابق نئے ڈیزائن میں ٹانگوں کے لیے تقریباً دو انچ اضافی جگہ دی جائے گی، جبکہ طیارے میں سیٹوں کی مجموعی تعداد برقرار رکھی جائے گی۔

Kestrel نشستوں کا ڈیزائن پتلا اور زیادہ مؤثر ہے، جس میں نشست کی زاویاتی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا ہے، جبکہ روایتی ری کلائن ’پیچھے جھکنے‘ کے بجائے مستقل زاویہ رکھا گیا ہے۔

 اس سے وزن کم ہوتا ہے، مکینیکل پرزے گھٹتے ہیں اور مسافروں کے درمیان نشست جھکانے کے تنازعات بھی کم ہو سکتے ہیں، خاص طور پر مختصر اور درمیانی دورانیے کی پروازوں میں۔

ایئرلائنز وزن کم کرنے پر کیوں زور دیتی ہیں؟

ہوا بازی کے شعبے میں وزن براہ راست لاگت، ایندھن اور ماحولیاتی اثرات سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر ایک ایئرلائن ہر طیارے کا وزن آدھا ٹن بھی کم کر لے، تو یہ ہزاروں پروازوں میں نمایاں بچت کا باعث بنتا ہے۔ 

5464564
مسافروں کے لیے ٹانگوں کی جگہ میں اضافہ، بہتر آرام دہ سفر

اندازوں کے مطابق یہ نئی نشستیں ایندھن کی کھپت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئرلائنز کو بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں، سخت ماحولیاتی قوانین اور مسافروں کی بہتر سہولت کی بڑھتی ہوئی توقعات کا سامنا ہے، حتیٰ کہ کم لاگت والی ایئرلائنز میں بھی۔

ایزی جیٹ کا ابتدائی اقدام

ایزی جیٹ ان نئی نشستوں کو اپنانے والی ابتدائی ایئرلائنز میں شامل ہوگی۔ 

یہ اقدام اس کے 230 سے زائد نئے طیاروں کے آرڈر کا حصہ ہے، جن میں A320neo اور A321neo شامل ہیں، اور ان نشستوں کی تنصیب 2028 سے شروع کی جائے گی۔

ایندھن کی کھپت
اور کاربن اخراج
میں کمی، ماحول
دوست قدم

کمپنی اس اقدام کے ذریعے کم لاگت ماڈل کو برقرار رکھتے ہوئے مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کاربن فائبر کے استعمال سے اکانومی کلاس نشستوں کے ڈیزائن میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
اب نشست کو صرف بیٹھنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا انجینئرنگ عنصر سمجھا جا رہا ہے جو پرواز کی مجموعی لاگت اور کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر یہ تجربہ آرام، مضبوطی اور لاگت میں کمی کے حوالے سے کامیاب ثابت ہوا، تو دیگر ایئرلائنز بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کر سکتی ہیں، خاص طور پر وہ کمپنیاں جو مختصر اور درمیانی فاصلے کی پروازوں پر انحصار کرتی ہیں، جہاں وزن میں کمی براہ راست منافع اور ماحولیاتی بہتری سے جڑی ہوتی ہے۔