ہر طیارے میں
تقریباً 500 کلوگرام
تک وزن کی
بچت ممکن
طیاروں میں اس مادے کی اہمیت اس کے ظاہری شکل سے زیادہ اس کی کارکردگی پر اثر سے جڑی ہوتی ہے۔
جتنا وزن کم ہوگا، اتنی ہی ایندھن کی بچت ہوگی، کاربن اخراج کم ہوگا اور ایئرلائنز اپنے اخراجات بہتر انداز میں کنٹرول کر سکیں گی۔
یہ نئی نشستیں صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ مسافروں کو زیادہ جگہ بھی فراہم کریں گی۔
ایزی جیٹ کے مطابق نئے ڈیزائن میں ٹانگوں کے لیے تقریباً دو انچ اضافی جگہ دی جائے گی، جبکہ طیارے میں سیٹوں کی مجموعی تعداد برقرار رکھی جائے گی۔
Kestrel نشستوں کا ڈیزائن پتلا اور زیادہ مؤثر ہے، جس میں نشست کی زاویاتی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا ہے، جبکہ روایتی ری کلائن ’پیچھے جھکنے‘ کے بجائے مستقل زاویہ رکھا گیا ہے۔
اس سے وزن کم ہوتا ہے، مکینیکل پرزے گھٹتے ہیں اور مسافروں کے درمیان نشست جھکانے کے تنازعات بھی کم ہو سکتے ہیں، خاص طور پر مختصر اور درمیانی دورانیے کی پروازوں میں۔
ایئرلائنز وزن کم کرنے پر کیوں زور دیتی ہیں؟
ہوا بازی کے شعبے میں وزن براہ راست لاگت، ایندھن اور ماحولیاتی اثرات سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر ایک ایئرلائن ہر طیارے کا وزن آدھا ٹن بھی کم کر لے، تو یہ ہزاروں پروازوں میں نمایاں بچت کا باعث بنتا ہے۔
اندازوں کے مطابق یہ نئی نشستیں ایندھن کی کھپت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئرلائنز کو بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں، سخت ماحولیاتی قوانین اور مسافروں کی بہتر سہولت کی بڑھتی ہوئی توقعات کا سامنا ہے، حتیٰ کہ کم لاگت والی ایئرلائنز میں بھی۔
ایزی جیٹ کا ابتدائی اقدام
ایزی جیٹ ان نئی نشستوں کو اپنانے والی ابتدائی ایئرلائنز میں شامل ہوگی۔
یہ اقدام اس کے 230 سے زائد نئے طیاروں کے آرڈر کا حصہ ہے، جن میں A320neo اور A321neo شامل ہیں، اور ان نشستوں کی تنصیب 2028 سے شروع کی جائے گی۔
ایندھن کی کھپت
اور کاربن اخراج
میں کمی، ماحول
دوست قدم
کمپنی اس اقدام کے ذریعے کم لاگت ماڈل کو برقرار رکھتے ہوئے مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کاربن فائبر کے استعمال سے اکانومی کلاس نشستوں کے ڈیزائن میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
اب نشست کو صرف بیٹھنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا انجینئرنگ عنصر سمجھا جا رہا ہے جو پرواز کی مجموعی لاگت اور کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر یہ تجربہ آرام، مضبوطی اور لاگت میں کمی کے حوالے سے کامیاب ثابت ہوا، تو دیگر ایئرلائنز بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کر سکتی ہیں، خاص طور پر وہ کمپنیاں جو مختصر اور درمیانی فاصلے کی پروازوں پر انحصار کرتی ہیں، جہاں وزن میں کمی براہ راست منافع اور ماحولیاتی بہتری سے جڑی ہوتی ہے۔