غیر اعلانیہ اور تیز ترین بحری انخلا کی ایک کارروائی میں خلیجِ عرب کے پانیوں میں پھنسے آخری سیاحتی جہازوں نے صرف 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
انہوں نے ’عارضی کھلنے والی کھڑکی‘ سے فائدہ اٹھایا، جو علاقے میں سیکیورٹی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی جلد بند ہو گئی۔
یہ تیز رفتار اقدام بحری کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی تعاون کے نتیجے میں ممکن ہوا، جہاں متعدد جہاز خطرے کے علاقے سے مرحلہ وار اور منظم انداز میں نکلنے میں کامیاب رہے۔
یہ منظر صورتحال کی نزاکت اور وقت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق کمپنی ٹی یو آئی کروزز نے اعلان کیا کہ اس کے جہاز ’مائن شیف 4‘ اور ’مائن شیف 5‘ کامیابی سے گزر گئے، جنہیں احتیاطی تدبیر کے طور پر پہلے ہی مسافروں کو اتار کر کم عملے کے ساتھ چلایا جا رہا تھا۔
بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق چار سیاحتی جہاز مختصر وقفوں—زیادہ سے زیادہ 45 منٹ—کے ساتھ سلطنتِ عمان کے ساحلوں کے قریب
بالخصوص جزیرہ نما مسندم کے نزدیک، ایک نسبتاً محفوظ راستے سے گزرے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
ان کارروائیوں میں ایم ایس سی یوریبیا نامی جہاز بھی شامل تھا، جو کمپنی ایم ایس سی کروزز کا حصہ ہے اور دبئی سے روانہ ہو کر شمالی یورپ کی جانب گیا تاکہ مئی میں جرمنی اور ڈنمارک کی بندرگاہوں سے اپنا سیاحتی پروگرام دوبارہ شروع کر سکے۔
اسی طرح ’سیلسٹیال جرنی‘ اور ’سیلسٹیال ڈسکوری‘ نامی جہاز بھی، جو سیلسٹیال کروزز کے ہیں، اس اجتماعی روانگی میں شامل ہو گئے۔
یہ تیز رفتار عبور اس وقت ممکن ہوا جب عارضی طور پر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھولا گیا، مگر ایک دن سے بھی کم وقت میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث اسے دوبارہ بند کر دیا گیا، جس سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ایک بار پھر رک گئی۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جو نہ صرف تیل کی ترسیل بلکہ سیاحتی جہاز رانی کے لیے بھی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
حالیہ کشیدگی نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
ان حالات نے سیاحتی کمپنیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے آپریشنل راستوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور خطرات سے بچنے کے لیے لچکدار ہنگامی منصوبہ بندی اپنائیں۔
بحری ماہرین کے مطابق، ان چند گھنٹوں میں پیش آنے والا یہ واقعہ کروز انڈسٹری میں بحران سے نمٹنے کے انداز میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں فیصلے اب صرف شیڈول پر نہیں بلکہ سیکیورٹی صورتحال کے فوری تجزیے پر مبنی ہوتے ہیں۔
اگرچہ یہ جہاز بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے مگر خلیج میں جہاز رانی کا مستقبل آنے والے دنوں میں خطے کی سیاسی صورتحال پر منحصر رہے گا۔