پاکستان، جو امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان متوقع مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، اگرچہ ان کے انعقاد کے حوالے سے ابہام برقرار ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق دو پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فضائیہ کے دو بڑے کارگو طیارے ’سی 17‘ اتوار کے روز ایک فضائی اڈے پر اترے۔
ان طیاروں میں سیکیورٹی ساز و سامان اور گاڑیاں لائی گئی ہیں، تاکہ امریکی وفد کی آمد کی تیاری کی جا سکے، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے اور ان کی آمد آج پیر کو متوقع ہے۔
حکام نے اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی ہے، جبکہ دارالحکومت میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سرینا ہوٹل کے اطراف خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں، جہاں چند روز قبل مذاکرات ہوئے تھے، اور ہوٹل انتظامیہ نے تمام مہمانوں کو کمرے خالی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
تاہم ان تمام تیاریوں کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات پر شکوک بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ جاری ہے۔