جون 2025 کی ایک رات، جب جنگلات کی آگ کا دھواں البرٹا کے آسمان کو گھیرے ہوئے تھا، ’ریڈ ڈیئر‘ شہر کے ایک اسپورٹس کمپلیکس میں سیکڑوں افراد جمع ہوئے۔
مزید پڑھیں
اس اجتماع کا مقصد قومی ہاکی ٹیم کی سپورٹ نہیں، بلکہ البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی کے لیے کانفرنس کا انعقاد کرنا تھا۔
’البرٹا پروسپرٹی پروجیکٹ‘ (APP) کے زیر اہتمام یہ جلسہ محض ایک جذباتی نعرہ نہیں تھا۔
یہ صوبہ ملکی خام تیل کی 84 فیصد پیداوار کا مرکز ہے۔ مارچ 2026 کے سروے کے مطابق یہاں ایک تہائی باشندے علیحدگی کے حامی ہیں۔
اس تحریک کی جڑیں سخت ماحولیاتی قوانین اور مشرقی کینیڈا کو دی جانے والی ٹیکس رقوم میں پیوست ہیں۔
البرٹا کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی قدامت پسند معاشی سوچ، اوٹاوا کی لبرل پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتی، جس کی وجہ سے علیحدگی پسندی کا جذبہ اب مرکزی دھارے کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔
قانونی داؤ پیچ اور ڈینئیل اسمتھ کا کردار
اپریل 2025 میں مارک کارنی کے اقتدار میں آنے کے بعد البرٹا کی اسمبلی نے علیحدگی کے ریفرنڈم کو آسان بنانے کے لیے قانون سازی کی۔
ریفرنڈم کے لیے درکار دستخطوں کی تعداد 6 لاکھ سے کم کر کے صرف 1 لاکھ 77 ہزار کر دی گئی، جس سے 5 ملین آبادی والے اس صوبے کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
صوبائی پریمیئر (وزیرِ اعلیٰ) ڈینئیل اسمتھ نے ’بل 54‘ کے ذریعے اس عمل کو سہولت فراہم کی۔
اگرچہ وہ خود کو علیحدگی پسند نہیں کہتیں، لیکن اس ریفرنڈم کو اوٹاوا پر دباؤ ڈالنے اور اپنی پارٹی کے سخت گیر دھڑے کو مطمئن کرنے کے لیے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
ٹرمپ فیکٹر اور واشنگٹن کی نئی پالیسی
حیران کن طور پر علیحدگی پسندوں نے اوٹاوا کے بجائے واشنگٹن کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق البرٹا کے رہنماؤں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کی ہیں، جس میں 500 ارب ڈالر کے ایمرجنسی فنڈ اور امریکی ڈالر کو بطور کرنسی اپنانے جیسے نکات پر بات چیت کی گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ ارکان بشمول اسکاٹ بیسنٹ، البرٹا کو ایک قدرتی ساتھی قرار دے چکے ہیں۔ یہ امریکی پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، کیونکہ واشنگٹن ایک صدی سے کینیڈا کی علاقائی سالمیت کا حامی رہا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کینیڈا کا ٹوٹنا شمالی امریکہ کے دفاعی نظام نوراڈ (NORAD) کو مفلوج کر سکتا ہے۔
آئینی رکاوٹ اور مقامی آبادی کا ویٹو
البرٹا کے لیے یہ راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔ 1998 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ یکطرفہ علیحدگی کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
اس کے علاوہ ’فرسٹ نیشنز‘ (مقامی آبادی) کا کردار کلیدی ہے۔ تاریخی زمین کے معاہدے وفاقی حکومت کے ساتھ کیے گئے تھے، اور ان کی مرضی کے بغیر صوبہ الگ نہیں ہو سکتا۔
مقامی قبائل نے اس ریفرنڈم کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے اور اسے اپنے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔
مئی میں عدالت نے ریفرنڈم کو مقامی آبادی سے مشاورت نہ کرنے کی بنیاد پر روک دیا تھا، جسے ڈینئیل اسمتھ چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
معاشی مضمرات اور مستقبل
ماہر معاشیات ٹریور ٹومب کے مطابق علیحدگی سے البرٹا کی جی ڈی پی میں 6 فیصد تک کمی آ سکتی ہے، جس سے ہر فرد کی آمدنی میں سالانہ 3900 ڈالر کا نقصان ہوگا۔
سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ البرٹا ایک خشکی میں گھرا (Landlocked) ملک بن جائے گا جس کے پاس سمندری راستے نہیں ہوں گے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ البرٹا کا تیل عالمی منڈی تک پہنچانے کے لیے اسے کینیڈا یا امریکہ پر انحصار کرنا ہوگا۔
علیحدگی کی تحریک اپنے عروج پر تو ہے، لیکن آئینی رکاوٹیں، مقامی آبادی کی مخالفت اور معاشی خطرات یہ بتاتے ہیں کہ یہ ’تیل کی دولت سے مالا مال‘ صوبہ ابھی ایک غیر یقینی اور پُرخطر راستے پر کھڑا ہے۔