گزشتہ 2 دہائیوں سے چین اور ایران کے دفاعی تعلقات ایک محتاط توازن کا شکار رہے ہیں، جہاں بیجنگ نے براہِ راست اسلحہ فروخت کرنے کے بجائے بالواسطہ امداد پر انحصار کیا ہے۔
مزید پڑھیں
حالیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ طرز عمل اب تبدیل ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ بیجنگ حالیہ ہفتوں میں تہران کو ’کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل‘ (Shoulder-fired missiles) فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اگرچہ چین نے ان الزامات کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے،
لیکن ماہرین اسے مشرقِ وسطیٰ میں بیجنگ کی تزویراتی حکمتِ عملی میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
1980 کی دہائی: چینی اسلحہ سازی کا سنہرا دور
ایران عراق جنگ (1980-1988) کے دوران چین نے اپنے دفاعی شعبے میں بڑی اصلاحات کیں۔
بیجنگ نے سرکاری کمپنیوں کو حکومتی امداد کے بجائے تجارتی منافع کمانے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں ایرانی مارکیٹ چینی اسلحے کے لیے کھل گئی۔
- اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق چین نے اسی دور میں ایران اور عراق دونوں کو اسلحہ فروخت کیا اور دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف چینی ہتھیار ہی استعمال کرتے رہے۔
- ایران نے چینی ساختہ اینٹی شپ سلک ورم میزائلوں کے ذریعے کویتی پانیوں میں امریکی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جس پر واشنگٹن نے چین کے خلاف سخت سفارتی ردِعمل دیا اور ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندیاں عائد کیں۔
1990 کی دہائی: انجینئرنگ اور میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی
جنگ کے خاتمے کے بعد ایران نے اپنی دفاعی صنعت کو خود کفیل بنانے کے لیے چین سے مدد مانگی۔
اس تعاون کا سب سے بڑا ثمر ’نور‘ میزائل کی صورت میں سامنے آیا، جو چینی C-802 میزائل کی ’ریورس انجینئرنگ‘ کے ذریعے تیار کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق چین نے تہران کے قریب میزائل بنانے اور ان کے تجربات کرنے کے لیے مراکز قائم کرنے میں بھی تکنیکی معاونت فراہم کی۔
جب امریکہ نے مکمل میزائلوں کی فروخت پر دباؤ بڑھایا تو چین نے ایسی مشینری اور پرزہ جات کی سپلائی بڑھا دی جو سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے تھے۔
جدید دور: ڈوئل یوز ٹیکنالوجی اور ’بائیڈو‘ کا سہارا
2006 میں اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے بعد چین نے براہِ راست عسکری معاہدوں سے کنارہ کشی اختیار کی لیکن خفیہ سپلائی جاری رہی۔
- بیجنگ نے میزائلوں کے ٹھوس ایندھن کے لیے کیمیکلز، ریڈیو فریکوئنسی کنیکٹرز اور ٹربائن بلیڈز کی فراہمی جاری رکھی۔
- امریکی جی پی ایس (GPS) کے متبادل کے طور پر (شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ) ایران اپنے میزائلوں اور ڈرونز کی رہنمائی کے لیے چینی سیٹلائٹ سسٹم ’بائیڈو‘ استعمال کر رہا ہے۔
- گزشتہ ماہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ ڈرون حملوں میں اس سسٹم کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔
تزویراتی مفادات اور توانائی کی سیکیورٹی
چین کے لیے ایران کے ساتھ عسکری تعاون محض اسلحہ فروخت کرنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی توانائی کی سیکیورٹی سے جڑا ہے۔
چین اپنی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ خلیجی خطے سے حاصل کرتا ہے۔
تہران کو ایک مضبوط دفاعی شراکت دار کے طور پر برقرار رکھنا بیجنگ کے لیے اسٹریٹیجک ضرورت ہے تاکہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو متوازن رکھا جا سکے۔
چین اور ایران کے درمیان فوجی تعلقات محتاط تعاون سے نکل کر اب ٹیکنالوجیکل شراکت داری کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
اگر حالیہ امریکی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے والا ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔