اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

آبنائے ہرمز میں پھنسے 2 ہزار بحری جہازوں پر 20 ہزار افراد محصور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز جہاز بحران اور محصور ملاحوں کی صورتحال
آبنائے ہرمز میں جہاز اور ان کا عملہ محصور ہو چکا ہے (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

عالمی تجارت کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز اس وقت ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری جنگی حالات نے 20 ہزار افراد کی زندگیوں کو شدید اور مستقل خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

28 فروری سے اب تک تقریباً 2 ہزار بحری جہاز اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں تیل، گیس کے ٹینکرز اور مال بردار جہاز شامل ہیں جن کی نقل و حرکت جنگ نے مفلوج کر دی ہے۔

رواں ماہ اس حساس مقام پر جہازوں پر 21 حملے ریکارڈ ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں اب تک 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جس نے جہازوں پر موجود عملے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

جہازوں پر محصور یہ افراد انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں خوراک، پینے کے صاف پانی اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ تنگ کمروں میں طویل قیام ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز جہاز بحران اور محصور ملاحوں کی صورتحال
(فوٹو: الجزیرہ)

انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن نے 3 مارچ کو آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح کو ’انتہائی پرخطر علاقہ‘ قرار دیا تھا اور عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ محصور افراد کی سلامتی کو ہر صورت اپنی اولین ترجیح بنائے۔

فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اسٹیفن کاٹن نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملاحوں کے سروں پر ہر وقت ڈرونز اور دھماکوں کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے جو کسی بھی وقت بڑے جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

اسٹیفن کاٹن کے مطابق جہازوں کے قریب دھماکے یا ڈرون حملے ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں جس سے ایسی خوفناک آگ لگنے کا خدشہ ہے جس پر قابو پانا یا وہاں سے بچ نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ان افراد کی وطن واپسی کے لیے قانونی طریقہ کار تو موجود ہے لیکن موجودہ جنگی حالات میں کوئی بھی متبادل عملہ وہاں جانے کو تیار نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان کا اپنے گھروں کو جانا فی الحال ناممکن ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز جہاز بحران اور محصور ملاحوں کی صورتحال
(فوٹو: الجزیرہ)

10 اپریل تک انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کو محصور افراد کی جانب سے ایک ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن میں وطن واپسی کے مطالبات کے ساتھ ساتھ خوراک اور ایندھن کی کمی کی شکایات درج کی گئی ہیں۔

اس بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے کیونکہ ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی اور وہ اس خطرناک سمندری قید سے کب آزاد ہو کر اپنے پیاروں سے مل سکیں گے۔

عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ملاحوں کو بین الاقوامی تنازعات میں بطور دباؤ استعمال نہ کیا جائے اور عالمی برادری اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ان بے گناہ انسانوں کو جنگی ایندھن بنانے سے دور رکھنے کی کوشش کرے۔