اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

نئی تحقیق: ’ورزش کا دورانیہ نہیں ، شدت اہم ہے‘

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
طویل عمری اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ورزش کی شدت کی اہمیت کو واضح کرتی تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرینِ صحت ہمیشہ سے جسمانی نقل و حرکت بڑھانے اور بیٹھنے کے اوقات کم کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

تاہم، برطانوی بائیو بینک کے اعداد و شمار پر مبنی دو نئی تحقیقی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ورزش کا دورانیہ نہیں بلکہ اس کی ’شدت‘ صحت اور طویل عمری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

اس تازہ تحقیق کے دوران سائنسدانوں کی جانب سے تقریباً ایک لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیاگیا، جس میں پہننے والے فٹنس ٹریکرز کا استعمال کیا گیا۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ طریقہ کار تجربے میں شامل افراد کی خود سے بتائی گئی معلومات کے بجائے زیادہ مستند اور درست ثابت ہوا، جس سے طویل مدتی صحت اور جسمانی سرگرمیوں کے تعلق کو سمجھنے میں مدد ملی۔

طویل عمری اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ورزش کی شدت کی اہمیت کو واضح کرتی تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

بیماریوں سے بچاؤ

چین کی سینٹرل ساؤتھ یونیورسٹی کے محقق جیہوا وئی اور ان کی ٹیم نے اس تحقیق میں دریافت کیا کہ اگر ورزش کا کل حجم یکساں ہو، تب بھی زیادہ شدت والی ورزش کرنے والے افراد 8 اہم دائمی امراض کا شکار ہونے کا امکان کم رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ورزش کی شدت قلبی اور عضلاتی نظام کو مضبوط بناتی ہے۔

طویل عمری اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ورزش کی شدت کی اہمیت کو واضح کرتی تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

8 بڑی بیماریوں سے تحفظ

تحقیق کے مطابق تیز رفتار ورزش دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کرتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ الرجینک ایٹریل فیبریلیشن، دائمی سانس کے امراض، ذیابیطس ٹائپ 2، جگر کے امراض، جوڑوں کی سوزش، گردوں کی بیماریوں اور ڈیمنشیا جیسے ذہنی انحطاط کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

طویل عمری اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ورزش کی شدت کی اہمیت کو واضح کرتی تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مجموعی شرحِ اموات اور ورزش

ہانگ کانگ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے یہوئی کائی اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ہفتے میں 150 منٹ تک معتدل سے تیز ورزش کرنے والے افراد میں جلد موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق یہ فوائد تب بھی حاصل ہوتے ہیں جب یہ ورزش وقفوں کے ساتھ کی جائے۔

طویل عمری اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ورزش کی شدت کی اہمیت کو واضح کرتی تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ورزش کی بہترین ’خوراک‘

محققین کے مطابق ورزش کی کوئی ایک مثالی خوراک طے نہیں ہے، کیونکہ یہ مقدار، شدت اور دورانیے کا مجموعہ ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اگر ورزش کی شدت زیادہ ہو تو کم وقت میں بھی وہی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جو طویل مدتی معتدل ورزش سے ملتے ہیں۔

طویل عمری اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ورزش کی شدت کی اہمیت کو واضح کرتی تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

روزمرہ زندگی میں شدت کیسے بڑھائیں؟

ماہرین کے مطابق ضروری نہیں کہ آپ پیشہ ور کھلاڑی بنیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر ورزش کے دوران آپ کو سانس پھولنے لگے اور جملے بولنا مشکل ہو جائے تو سمجھ لیں کہ آپ کا عمل ’شدید‘ ہے۔ 

اس طرح سے روزمرہ کاموں میں بھی شدت لائی جا سکتی ہے، جیسے تیز قدمی، سیڑھیاں تیزی سے چڑھنا یا گھر کے کاموں کو تیز رفتاری سے انجام دینا۔

ماہرین کی یہ تحقیقی رپورٹس ثابت کرتی ہیں کہ صحت مند زندگی کے لیے ورزش کا انتخاب محض دورانیے کی قید نہیں ہے۔ 

ورزش کی شدت کو بڑھانا ایک مؤثر حکمتِ عملی ہے جو نہ صرف بیماریوں کے خلاف ڈھال بنتی ہے بلکہ جسمانی کارکردگی اور میٹابولزم کو بہتر بنا کر زندگی کے دورانیے میں بھی اضافہ کرتی ہے۔