اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ کے خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات کے دو سیشن ختم ہوگئے ہیں جبکہ تیسرا سیشن بھی ہوگا۔
مذاکرات کے پسِ پردہ کچھ تفصیلات بھی سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران مذاکراتی ٹیم بند کمروں کافی لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے تاہم ایران کے سرکاری میڈیا میں اسے دکھایا نہیں جاتا۔
مزید پڑھیں
ایک ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے نسبتا لچک دکھائی ہے، جیسا کہ ’اسرائیل ہیوم‘ نے رپورٹ کیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن نے ایران کی اس پیشگی شرط کو مسترد کر دیا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات شروع کرنے کے لیے اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں۔
امریکہ نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ’سرخ لکیر‘ ہے۔
دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ ’تل ابیب کے اندازوں کے مطابق تہران مذاکرات میں کوئی رعایت نہیں دے گا، جیسا کہ نشریاتی ادارے نے نقل کیا۔
اس نے مزید کہا ’ہم واشنگٹن کے ساتھ مل کر اس صورت میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی کہ ایران، پاکستان اور امریکہ کے نمائندے آمنے سامنے ملاقات کر رہے ہیں، برخلاف اس کے کہ گزشتہ مہینوں میں ہونے والے مذاکرات میں واشنگٹن اور تہران بالواسطہ طور پر الگ کمروں میں بیٹھ کر پیغامات کے ذریعے بات چیت کرتے تھے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات رات بھر جاری رہیں گے اور ممکن ہے کہ کل تک بڑھ جائیں۔
ادھر ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق، اسلام آباد میں سہ فریقی مذاکرات زیادہ سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جیسا کہ خبر رساں ادارے ایسنا نے نقل کیا۔
جبکہ فارس ایجنسی نے بتایا کہ ابھی تک ایرانی مذاکرات کاروں کے قیام میں توسیع کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم پیش رفت کی صورت میں ان کے قیام میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد میں ایرانی سرکاری ٹی وی کے نمائندے نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں فرق کم کرنے کے لیے آخری کوششیں جاری ہیں۔