امریکی محکمہ خارجہ نے تہران کے موجودہ اور سابقہ اعلیٰ حکام کے قریبی رشتہ داروں کے گرین کارڈ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
ان اقدامات کا مقصد ایرانی نظام کے اہم رہنماؤں کے قریبی حلقوں پر دباؤ بڑھانا ہے، جس کے تحت متاثرہ افراد کو حراست میں لے کر ملک بدری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اس تازہ ترین کارروائی میں سید عیسیٰ ہاشمی، ان کی اہلیہ اور بیٹے کو حراست میں لیا گیا ہے, جو لاس اینجلس میں رہائش پذیر تھے۔
سید عیسیٰ ہاشمی ایران میں پیدا ہوئے اور پیشے کے اعتبار سے ماہر
نفسیات ہیں، جنہیں اب قانونی کارروائی کے بعد امریکا سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
سید عیسیٰ ہاشمی کا تعلق ایران کی سابق نائب صدر معصومہ ابتکار سے ہے، جو 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے دوران حملہ آوروں کی ترجمان رہی تھیں۔
معصومہ ابتکار ایران کی تاریخ میں نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایک ہفتہ قبل کیے گئے اسی نوعیت کے فیصلے کا تسلسل ہے، جس میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور ان کی بیٹی کے گرین کارڈز بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ قاسم سلیمانی 2020 میں بغداد میں جاں بحق ہوئے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے فریقین کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں اہم بات چیت جاری ہے۔