اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

غادہ الحارثی عالمی آرٹ نیٹ ورک ’فریز کنیکٹ‘ کی پہلی عرب رکن منتخب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ڈاکٹر غادہ الحارثی فریز کنیکٹ کی پہلی عرب رکن، سینٹرل سینٹ مارٹنز لندن
(فوٹو: سبق)

سینٹرل سینٹ مارٹنز، یونیورسٹی آف آرٹس لندن میں کلچر اینڈ انوویشن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر غادہ الحارثی نے عالمی آرٹ نیٹ ورک ’فریز کنیکٹ‘ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

مزید پڑھیں

غادہ الحارثی اس معتبر بین الاقوامی کمیٹی کا حصہ بننے والی پہلی عرب خاتون ہیں۔

واضح رہے کہ ’فریز‘ کا 2003ء  میں لندن سے آغاز ہوا تھا، جس کے بعد اسے دورِ حاضر کے فنون لطیفہ کا سب سے بااثر عالمی پلیٹ فارم تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس نے جدت اور تجارتی مواقع یکجا کر کے منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

اس پلیٹ فارم کی سرگرمیاں لندن کے علاوہ نیویارک، لاس اینجلس اور سیئول جیسے بڑے شہروں تک پھیلی ہوئی ہیں اور یہ ادارہ سالانہ بنیادوں پر فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر سرگرم رہتا ہے۔

ڈاکٹر غادہ الحارثی نے اس تقرری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی ثقافتی تبادلے کا بہترین موقع قرار دیا ہے۔ وہ اپنے تجربات کے ذریعے اس عالمی نیٹ ورک کو مزید وسعت دینا چاہتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی منصوبے اب بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنا رہے ہیں اور ان کا انتخاب مملکت میں جاری ثقافتی و فنی سرگرمیوں پر عالمی برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ 

ڈاکٹر غادہ کلچرل اسٹریٹجی اور تخلیقی معیشت کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ ان کی علمی اور مشاورتی خدمات نے ثقافت، عوامی پالیسیوں اور تعلیم کے درمیان مضبوط روابط استوار کیے ہیں۔

ان کی شمولیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر خلیجی خطے کے ثقافتی نظام میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ وہ فریز کنیکٹ کی کمیٹی میں سعودی اور عرب ثقافتی تناظر کو پیش کریں گی۔

ان کی تقرری سے ’فریز کنیکٹ‘ کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگراموں کو نئی جہت ملنے کی توقع ہے۔ اس سے مشرق وسطیٰ اور عالمی آرٹ مارکیٹ کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔