مصر کے جنوب مغربی علاقے صحرائے فیوم میں ایک طالبہ نے انتہائی چھوٹی ہڈی دریافت کی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق منصورہ یونیورسٹی کے شعبہ سائنس کی طالبہ آية ابراہیم کو یہ ٹکڑا ریت کے درمیان ملا، جسے انہوں نے مزید تحقیق کے لیے سینٹر فار ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی کے سپرد کر دیا۔
یہ شعبہ ریڑھ کی ہڈی والے قدیم جانوروں و پرندوں پر تحقیق کرتا ہے۔
یونیورسٹی کے ماہرِ ہشام سلام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ٹکڑا ایک ایسے پرندے کی ٹانگ کا حصہ ہے جو کروڑوں سال قبل یہاں موجود تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معائنے سے ثابت ہوا کہ یہ ہڈی پرندوں کی مخصوص ہلکی ساخت اور سہ رخی جوڑوں کی حامل ہے، جو 40 ملین (4 کروڑ) سال پرانی چٹانوں سے ملی ہے۔
عمر کا تعین اور عالمی نقشے
اس دریافت کی عمر کا تعین عالمی جیولوجیکل نقشوں کی مدد سے کیا گیا ہے جو چٹانی تہوں کی تاریخ بتاتے ہیں۔
یہ پرندہ ڈائناسورز کے معدوم ہونے کے کئی لاکھ سال بعد کا ہے، تاہم ابھی تک اس کی مخصوص نسل اور خاندان کی درجہ بندی کرنا باقی ہے جس پر ٹیم کام کر رہی ہے۔
تحقیقی عمل کا تسلسل
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت گزشتہ 20 برس سے جاری ایک وسیع تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے۔
ٹیم اب جدید تجزیات کے ذریعے یہ معلوم کر رہی ہے کہ کیا یہ پرندہ کوئی ایسی نئی نوع ہے جسے سائنس نے پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کیا، تاکہ اسے عالمی ارتقائی ریکارڈ میں شامل کیا جا سکے۔
مصری پِتھیکس
اسی تحقیقی ٹیم نے حال ہی میں ’مصری پیتھکس‘نامی قدیم بندر کی باقیات بھی دریافت کی ہیں۔
یہ دریافت شمال افریقہ میں عظیم بندروں کی موجودگی کا پہلا ثبوت ہے۔ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ قدیم بندروں کا مسکن صرف مشرقی افریقہ تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کا پھیلاؤ وسیع تر تھا۔
یہ دریافتیں قدیم ارتقائی نظریات کو نئے زاویوں سے دیکھنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ ’مصری پیتھکس‘کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ موجودہ دور کے بندروں کے مشترکہ آباؤ اجداد سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت افریقہ میں حیوانی ارتقا کے بارے میں قائم روایتی تصورات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔