اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ہرمز سے عبور پر فیس، ٹرمپ بھی حصہ داری کے خواہشمند

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی تنظیم نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزاد آمد و رفت کو روکا نہیں جا سکتا (فوٹو: سبق)

مال غنیمت میں مجھے بھی حصہ دو، دونوں بھائی آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔

یہ محض خیال نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی سنجیدہ سوچ کی عکاسی ہے۔

میڈیا رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ اب ایران ہی نہیں، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہرمز  سے عبور پر فیس لگانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

اے بی سی نیوز کے رپورٹر کے مطابق ٹرمپ ہرمز کے راستے گزرنے والی جہاز رانی کے انتظام میں ایران کے ساتھ تعاون اور عبوری فیس عائد کرنے کے امکانات پر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔

 

مزید پڑھیں

رپورٹر نے ایکس پر لکھا میں نے آج صبح صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ ایران کے تمام جہازوں پر فیس عائد کرنے کے خیال سے متفق ہیں تو انہوں نے کہا کہ شاید امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم اس پر مشترکہ طور پر غور کر رہے ہیں۔ 

یہ نہ صرف اس راستے کو محفوظ بنانے کا طریقہ ہے بلکہ دیگر متعدد

 خطرات سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک اچھا منصوبہ ہے‘۔

ایران بھی ہرمز کے راستے سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران عمان کے ساتھ مل کر ایک پروٹوکول تیار کر رہا ہے، جس کے تحت جہازوں کو گزرنے کے لیے اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرنا ہوں گے تاکہ گزر آسان ہو سکے۔

ایران کے مطابق یہ فیس جہاز کی قسم اور مال برداری کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے اور مقصد صرف عبوری کارروائی کو منظم کرنا ہے، نہ کہ اسے محدود کرنا۔

لیکن بین الاقوامی بحری قوانین کے مطابق کسی بھی سمندری راستے سے گزرنے والی کشتیوں پر فیس عائد نہیں کی جا سکتی اور آزادیٔ بحری جہاز رانی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

5465454654646
(فوٹو: العربیہ)

آبنائے ہرمز کی اہمیت

  • ہرمز کی چوڑائی 33 سے 50 کلومیٹر اور گہرائی تقریباً 60 میٹر ہے، یہ ایران اور عمان کو الگ کرتا ہے اور خلیج عرب کو بحر عمان اور عرب سمندر سے جوڑتا ہے۔
  • یہ خلیج کے ممالک کے لیے خام تیل کی برآمدات کا مرکزی راستہ ہے، خاص طور پر ایشیا کی مارکیٹ کے لیے، جہاں روزانہ 25 سے 35 ٹینکر گزر رہے ہیں۔
  • تخمینوں کے مطابق دنیا کے سمندری تیل کی 20 سے 30 فیصد مقدار اس راستے سے گزرتی ہے، اور 2024 میں روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل اور کنسنٹریٹ اس سے گزرے۔