خطے میں عارضی جنگ بندی کے باوجود سکیورٹی کا سوال اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں
حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اب ’پوسٹ ڈیٹرنس‘ یا ردِ عمل کے بعد کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں روایتی فوجی طاقت اب دھمکیوں کو روکنے کے لیے کافی نہیں رہی۔
بدلتا ہوا سیکیورٹی تناظر
آج کا ایران صرف براہِ راست تصادم پر انحصار نہیں کرتا۔ تہران نے ’گرے
زون‘ کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں محدود فضائی حملے، فوجی پیغامات اور پراکسی گروپوں کا استعمال شامل ہے۔
اس پالیسی کا مقصد مکمل جنگ میں الجھے بغیر خلیجی ممالک کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
نئی سیکیورٹی پالیسی کی ضرورت
خطے کے ممالک اب ایک ایسی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں جہاں بحران اور تصادم کا سایہ کسی بھی وقت منڈلا سکتا ہے۔
اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ خلیج اپنی معاشی اور سیاسی لاگت کو کیسے بچائے؟ اب کامیابی کا معیار حملے روکنا نہیں، بلکہ اس کی شدت کو کنٹرول کرنا ہے۔
ایران کی تزویراتی چالیں
ماہرین کے مطابق ایران کا دارومدار 2 مفروضوں پر ہے۔ پہلا یہ کہ محدود حملے سیاسی اور معاشی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس کے پراکسی گروپ خطے کو مستقل دباؤ میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان دونوں مفروضوں کو توڑنا ہی خلیجی ممالک کی نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔
دفاع کا نیا ذریعہ
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حملوں کی افادیت ختم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانا ہوگا۔
اگر خلیجی ممالک حملوں کے بعد تیزی سے بحال ہو سکیں اور ان حملوں کا اثر فیصلہ سازی پر نہ پڑے، تو حملہ آور کے لیے تصادم کی لاگت بڑھ جائے گی۔
غیر متوقع ردِ عمل
ایران کا کہنا ہے کہ وہ خلیجی ردِ عمل کی حدوں کو پہلے سے جانتا ہے۔ اس رائے کے پیش نظر ماہرین کہتے ہیں کہ خلیج کو اپنے ردِ عمل کا انداز بدلنا ہوگا۔
فوری جوابی کارروائی کے بجائے غیر متوقع، طویل المدتی اور مختلف شعبوں میں ردِ عمل دینے سے تہران کی حساب کتاب والی پالیسی ناکام ہو سکتی ہے۔
پراکسی نیٹ ورک کے خلاف مؤثر اقدام
پراکسی گروپوں کو الگ الگ نمٹنے کے بجائے ایک مشترکہ سیکیورٹی نظام کے تحت دیکھنا ضروری ہے۔
ایران کو پراکسیوں کی کارروائیوں کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانا اور ان کی رسد و حمایت کے راستوں کو محدود کرنا، ان کے نیٹ ورک کو ایک تزویراتی اثاثے سے بوجھ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
خطے میں سیاسی ومعاشی ہم آہنگی
خلیجی ممالک کے درمیان سیکیورٹی کے حوالے سے مشترکہ فہم ناگزیر ہے۔
جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ایک ملک پر حملہ پوری تنظیم کا مسئلہ ہے، تو دشمن کے لیے چال چلنا مشکل ہو جائے گا۔ معاشی شراکت داری کے ذریعے بھی ایران کی علاقائی تنہائی میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
خلیج کا ہدف اب ہر دھمکی کو روکنا نہیں بلکہ اس کے نتائج کو غیر مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔
جب ایران یہ محسوس کرے گا کہ اس کے ’محدود حملے‘ نہ تو معیشت کو ہلا سکتے ہیں اور نہ ہی سیاسی فیصلے بدل سکتے ہیں تو اس کا رویہ تبدیل ہوگا اور یہی’پوسٹ ڈیٹرنس‘ کی اصل حقیقت ہے۔