امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن یاسمین انصاری نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف باضابطہ مواخذے کی قرارداد پیش کریں گی۔
ان پر ایران میں ’جنگی جرائم‘ کے ارتکاب اور کانگریس کے آئینی اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں ریاست ایریزونا کے تیسرے حلقے کی نمائندہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی شدید تنقید کی اور ان کے حالیہ بیانات—بشمول ایسٹر کے دن دیے گئے بیانات—کو ’غیر متوازن‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ امریکہ اور دنیا کو ایک اور ’تباہ کن اور نہ ختم ہونے والی جنگ‘ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق یاسمین انصاری نے کہا کہ ٹرمپ ’ایسے جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو امریکی قانون اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ہدایات پر پہلے ہی ’غیر قانونی اقدامات اور سنگین مظالم‘ ہو چکے ہیں، جن میں اسکولوں، اسپتالوں اور اہم شہری انفراسٹرکچر کی تباہی شامل ہے۔
انہوں نے ریپبلکن ارکانِ کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ صدر پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس ’خودکش جنگ‘ کو ختم کریں اور خبردار کیا کہ ’جو لوگ اندھا دھند ان کی پیروی جاری رکھیں گے، ان کے ہاتھ بھی خون سے رنگ جائیں گے‘۔
اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں ایرانی نژاد مہاجرین کی بیٹی ہوں جو اس نظام سے فرار ہوئے اور ایک امریکی رکنِ کانگریس کے طور پر میں نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، اس لیے جانتی ہوں کہ یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی‘۔
’پچیسویں ترمیم‘ کا مطالبہ
انصاری نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کی 25 ویں ترمیم کے استعمال پر غور کرے، جو صدر کو اختیارات سے ہٹانے کا طریقہ کار بیان کرتی ہے اگر وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہوں۔
تاہم اس کے لیے نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت کی منظوری درکار ہوتی ہے، جسے عملی طور پر مشکل قرار دیا جاتا ہے۔
کانگریس میں قانونی کارروائی کے حوالے سے انہوں نے تصدیق کی کہ وہ آئندہ ہفتے وزیرِ جنگ کے خلاف مواخذے کی دفعات پیش کریں گی، اور ان پر ’آئینی حلف اور ذمہ داری کی مسلسل خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا۔
انہوں نے زور دیا کہ ’جنگ کا اعلان صرف کانگریس کا اختیار ہے، نہ کہ کسی بے لگام صدر یا اس کے پیروکاروں کا‘۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے وزیرِ جنگ پر عائد الزامات کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہیگسیتھ کی لاپرواہی سے امریکی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑیں اور ان کے بار بار جنگی جرائم—جن میں ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر بمباری اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا شامل ہے—ان کی برطرفی کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ 28 فروری سے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اہم شخصیات بھی نشانہ بنی ہیں۔
دوسری جانب تہران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ بعض عرب ممالک میں موجود امریکی مفادات اور اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔