اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

تہران واپسی: جنگ کے سائے میں جیتے ایرانی شہریوں کی کہانی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران میں دکانیں اور سروس سینٹرز کھلے اور مسافروں سے بھرے ہوئے تھے (فوٹو: الجزیرہ)

ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران تیرہویں نوروز کے بعد ہزاروں شہری واپس تہران کا رخ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق 3 ہفتے قبل نقل مکانی کرنے والے ان خاندانوں کے لیے گھر واپسی اب خوشی کے بجائے ایک کربناک اور خوف سے بھرپور تجربہ بن چکی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی شہروں کے درمیان طویل سفر کے دوران شاہراہوں پر ٹریفک کا غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آیا۔

خاص طور پر اراک اور قم کے راستوں پر مسافر گاڑیوں اور ٹرکوں کی 

طویل قطاریں موجود تھیں۔ شہری اپنی منزل کی جانب ایسے گامزن تھے جیسے موت سے فرار اختیار کر رہے ہوں۔

iran life during war 7
مسافر پلوں کو عبور کرتے وقت بمباری کے خوف سے ڈرائیو معمول سے تیز رفتار گاڑی چلاتے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

توانائی کے مراکز اور پلوں کا خوف

ایران میں سڑکوں پر نصب ہائی وولٹیج بجلی کے کھمبے اب شہریوں کو انتباہ دیتے معلوم ہوتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد مسافر ہر پُل اور سرنگ عبور کرتے ہوئے شدید خوف کا شکار ہیں کہ کہیں اگلا ہدف وہی تو نہیں۔

iran life during war 2
ڈرائیور سرنگ سے باہر نکلتے ہی رفتار بڑھاتے ہیں، گویا وہ موت سے بھاگ رہے ہوں (فوٹو: الجزیرہ)

سرنگوں میں انسانی نفسیات

قبل از جنگ جو سرنگیں آلودگی کے باعث ناپسندیدہ تھیں، اب وہی سرنگیں شہریوں کو سب سے محفوظ مقام محسوس ہو رہی ہیں۔

سرنگ سے باہر نکلتے ہی ڈرائیور اپنی گاڑیوں کی رفتار بڑھا دیتے ہیں، جیسے کسی کھلے میدان میں فضائی حملے کا شکار ہونے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

iran life during war 3
ٹرک ڈرائیور نے گاڑی پر جمی گرد پر انگلی سے ایران کے ساتھ اظہارِ تعزیت کا پیغام لکھ رکھا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

ہولناکی اور ٹرکوں پر لکھے پیغام

ایرانی ٹرک ڈرائیوروں نے گاڑیوں پر اپنی جذباتی کیفیات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔

لورستان کے پہاڑوں میں ایک آئل ٹینکر پر ’ہم ایران کا سوگ منا رہے ہیں‘ جیسی تحریریں اور میناب اسکول پر حالیہ حملے کا ذکر، جنگ کی ہولناکی اور شہریوں کے گہرے دکھ کا عکاس ہے۔

iran life during war 4
تہران کی طرف جانے والی سڑکوں پر رات گئے تک ٹریفک کا شدید رش دیکھا گیا (فوٹو: الجزیرہ)

گھر واپسی: احساس عدم تحفظ

تہران میں اپنے گھروں کو واپس پہنچنے والے شہریوں کے لیے زندگی اب تک معمول پر نہیں آئی ہے۔

وہاں بچوں کے ذہنوں میں فضائی حملوں کا خوف بیٹھ چکا ہے۔ گھر جو کبھی سکون کا گہوارہ تھے، اب ایک ایسی جگہ بن چکے ہیں جہاں ہر پل چھت گرنے یا میزائل حملے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔

iran life during war 6
ٹول پلازہ پر زیادہ ہجوم دیکھا گیا (فوٹو: الجزیرہ)

موجودہ حالات نے ایرانی معاشرے میں تحفظ کے احساس کو بری طرح مجروح کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گھر واپسی محض ایک جغرافیائی نقل و حرکت نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی امتحان ہے۔ جنگ نے تہران کے شہریوں کے لیے گھر کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب دیواریں اور چھتیں تحفظ کے بجائے ہولناکی کی علامت بن چکی ہیں۔