ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران تیرہویں نوروز کے بعد ہزاروں شہری واپس تہران کا رخ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق 3 ہفتے قبل نقل مکانی کرنے والے ان خاندانوں کے لیے گھر واپسی اب خوشی کے بجائے ایک کربناک اور خوف سے بھرپور تجربہ بن چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی شہروں کے درمیان طویل سفر کے دوران شاہراہوں پر ٹریفک کا غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آیا۔
خاص طور پر اراک اور قم کے راستوں پر مسافر گاڑیوں اور ٹرکوں کی
طویل قطاریں موجود تھیں۔ شہری اپنی منزل کی جانب ایسے گامزن تھے جیسے موت سے فرار اختیار کر رہے ہوں۔
توانائی کے مراکز اور پلوں کا خوف
ایران میں سڑکوں پر نصب ہائی وولٹیج بجلی کے کھمبے اب شہریوں کو انتباہ دیتے معلوم ہوتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد مسافر ہر پُل اور سرنگ عبور کرتے ہوئے شدید خوف کا شکار ہیں کہ کہیں اگلا ہدف وہی تو نہیں۔
سرنگوں میں انسانی نفسیات
قبل از جنگ جو سرنگیں آلودگی کے باعث ناپسندیدہ تھیں، اب وہی سرنگیں شہریوں کو سب سے محفوظ مقام محسوس ہو رہی ہیں۔
سرنگ سے باہر نکلتے ہی ڈرائیور اپنی گاڑیوں کی رفتار بڑھا دیتے ہیں، جیسے کسی کھلے میدان میں فضائی حملے کا شکار ہونے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
ہولناکی اور ٹرکوں پر لکھے پیغام
ایرانی ٹرک ڈرائیوروں نے گاڑیوں پر اپنی جذباتی کیفیات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔
لورستان کے پہاڑوں میں ایک آئل ٹینکر پر ’ہم ایران کا سوگ منا رہے ہیں‘ جیسی تحریریں اور میناب اسکول پر حالیہ حملے کا ذکر، جنگ کی ہولناکی اور شہریوں کے گہرے دکھ کا عکاس ہے۔
گھر واپسی: احساس عدم تحفظ
تہران میں اپنے گھروں کو واپس پہنچنے والے شہریوں کے لیے زندگی اب تک معمول پر نہیں آئی ہے۔
وہاں بچوں کے ذہنوں میں فضائی حملوں کا خوف بیٹھ چکا ہے۔ گھر جو کبھی سکون کا گہوارہ تھے، اب ایک ایسی جگہ بن چکے ہیں جہاں ہر پل چھت گرنے یا میزائل حملے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔
موجودہ حالات نے ایرانی معاشرے میں تحفظ کے احساس کو بری طرح مجروح کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گھر واپسی محض ایک جغرافیائی نقل و حرکت نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی امتحان ہے۔ جنگ نے تہران کے شہریوں کے لیے گھر کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب دیواریں اور چھتیں تحفظ کے بجائے ہولناکی کی علامت بن چکی ہیں۔