امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے شارلوٹ ڈگلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جہاں ایک مسافر طیارے کے انجن میں شہد کی مکھیوں کا بڑا جھنڈ پایا گیا۔
مزید پڑھیں
خبر رساں اداروں کے مطابق اس صورتحال کے باعث طیارے کی پرواز کو فوری طور پر روکنا پڑا تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
حیران کن واقعہ اس وقت سامنے آیا جب طیارہ اڑان بھرنے کی تیاری کر رہا تھا اور ایک مسافر نے کھڑکی سے مکھیوں کو انجن کے ایک حصے پر بیٹھے دیکھا۔
اس منظر کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس کے
بعد امریکی میڈیا میں اس واقعے پر کافی بحث دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال تکنیکی اعتبار سے انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی، کیونکہ انجن چلنے کی صورت میں مکھیاں اس کے اندر کھنچ سکتی تھیں۔
اس سے نہ صرف پرواز کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی تھی بلکہ مکھیوں کا پورا جھنڈ بھی ہلاک ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
طیارے کے عملے نے فوری تکنیکی ماہرین اور مینٹیننس ٹیم کو طلب کیا تاکہ صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے۔
ماہرین نے انتہائی احتیاط اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکھیوں کو انجن سے بحفاظت نکالا ، جس سے انجن اور مکھیوں دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اس غیر متوقع صورت حال کی وجہ سے پرواز کو تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
@abcnews Passengers looked on as a beehive was removed from their plane before they could take off from Charlotte, North Carolina.
♬ original sound - ABC News
تاہم کامیابی کے ساتھ مکھیوں کو ہٹانے کے بعد طیارے نے سان فرانسسکو کے لیے اپنی منزل کی جانب سفر دوبارہ شروع کیا اور اس دوران کسی مسافر یا عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یاد رہے کہ شمالی کیرولائنا میں موسم بہار کے دوران شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا بننا ایک عام بات سمجھی جاتی ہے۔
اس عمل میں ملکہ مکھی نئے ٹھکانے کی تلاش میں نکلتی ہے اور اکثر گرم دھاتی اشیا جیسے طیاروں کے پروں یا انجنوں کی جانب متوجہ ہو کر وہاں بسیرا کر لیتی ہے۔