ایک برطانوی اخبار کی جانب سے کیے گئے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ چین سے ایران کو بیلسٹک میزائلوں کے لیے درکار ایندھن کی بڑی مقدار منتقل کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ ترسیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کو جاری کشیدگی کے دوران شدید فوجی دباؤ کا سامنا ہے۔
دی ٹیلی گراف کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایرانی شپنگ فلیٹ کے 5 بحری جہازوں نے چین کی ایک بندرگاہ سے سوڈیم پرکلوریٹ نامی کیمیکل منتقل کیا ہے۔
یہ مادہ بیلسٹک میزائلوں کے ٹھوس ایندھن کی تیاری میں بنیادی
حیثیت رکھتا ہے اور اس کی مقدار تقریباً 785 میزائلوں کی تیاری کے لیے کافی بتائی گئی ہے۔
یہ تمام جہاز چین کے شہر ژوہائی کی گاولان بندرگاہ سے روانہ ہوئے، جہاں ملک کا سب سے بڑا کیمیکل سٹوریج ٹرمینل واقع ہے۔
ماہرین کی جانب سے تصدیق کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مواد ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مذکورہ جہازوں کا تعلق ایرانی شپنگ لائنز کے اس بیڑے سے ہے جو پہلے ہی امریکی، برطانوی اور یورپی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ان میں ’ہامونا‘ نامی جہاز 19 فروری کو روانہ ہوا اور 26 مارچ کو بندر عباس پہنچا، جبکہ دیگر جہازوں نے بھی مارچ اور اپریل کے دوران ایران کا رُخ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ کھیپ 2025 کے اوائل میں آنے والی ترسیل سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔
اس سے قبل آنے والے مواد سے 102 سے 157 میزائل بن سکتے تھے، تاہم موجودہ مقدار سے ایران ایک ماہ تک روزانہ 10 سے 30 میزائل فائر کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سابق عہدیدار میاد مالکی نے اسے ایران کی جانب سے اپنے میزائل ذخائر کو دوبارہ بھرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تہران جنگی حالات میں ایندھن کی شدید قلت پر قابو پانے کے لیے انتہائی جارحانہ انداز میں سپلائی چین استعمال کر رہا ہے۔
اسلحہ کنٹرول کے ماہر پروفیسر جیفری لیوس کے مطابق یہ ترسیلات ثابت کرتی ہیں کہ مسلسل فضائی حملوں کے باوجود ایران کی میزائل سازی کی فیکٹریاں فعال ہیں۔
چین کی جانب سے اس عمل کو تجارتی سامان کا نام دے کر ایران کے لیے ایک بڑی مدد کی جا رہی ہے۔
کارنیگی فاؤنڈیشن کے محقق اسحاق کارڈن نے اسے چین کی جانب سے ایران کو ایک منظم حمایت قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مستقبل میں یہ سپلائی سمندری راستوں کے علاوہ پاکستان کے راستے زمینی سرحدوں سے بھی ایران تک پہنچائی جا سکتی ہے۔