اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایران کی زیرِزمین ایئربیس کی ویڈیو پر نئی بحث: کیا کوئی راز کھل گیا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: الجزیرہ)

ایران کی ایک زیر زمین ایئربیس عقاب 44 سے منسوب ویڈیوز اور معلومات سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیوز کسی نئے عسکری انکشاف اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی ملی ہے اور بعض کلپس کو 10 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔

صارفین نے ان ویڈیوز کو ایرانی طاقت اور حالیہ ایرانی عسکری تیاریوں کے طور پر پیش کیا، جس سے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

الجزیرہ اوپن سورس انویسٹی گیشن یونٹ نے ان ویڈیوز اور دعووں کی جانچ کے لیے بصری مواد کا تجزیہ کیا۔

ٹیم نے ان ویڈیوز کا موازنہ آرکائیوز میں موجود مواد سے کیا اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ ٹولز کے ذریعے ان کے نشر ہونے کے وقت اور سیاق و سباق کا جائزہ لیا۔

تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ ویڈیوز ہرگز نئی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق کسی حالیہ پیش رفت سے ہے۔

یہ فوٹیج دراصل 7 فروری 2023ء کو جاری ہونے والے سرکاری اعلان سے متعلق ہے، جب تہران نے پہلی بار عقاب 44 بیس کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کی جانب سے 2023ء میں جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ ایک انتہائی محفوظ زیر زمین تنصیب ہے۔

اِس تنصیب کو لڑاکا طیاروں، بمبار طیاروں اور ڈرون کے آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے اور اچانک کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔

موجودہ ویڈیوز اور 2023ء  میں سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والے مواد کا بصری موازنہ کرنے پر مکمل مطابقت پائی گئی ہے۔

ان ویڈیوز میں وہ مناظر بھی شامل ہیں جن میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی کو بیس کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس وقت کی سرکاری رپورٹ میں بیس کے درست جغرافیائی محل وقوع کو خفیہ رکھا گیا تھا، تاہم صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ یہ کسی پہاڑی سلسلے میں واقع ہے اور اسے امریکی ساختہ بنکر بسٹر بموں کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے خاص طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔

YouTube video

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایرانی عسکری مواد کو غلط سیاق و سباق میں پیش کیا گیا ہو۔

اس سے قبل مئی 2022 میں بھی ایران نے زاگروس کے پہاڑی سلسلے میں ڈرون طیاروں کے لیے ایک الگ زیر زمین بیس کا انکشاف کیا تھا، جہاں 100 سے زائد ڈرونز موجود تھے۔