ایران کی ایک زیر زمین ایئربیس عقاب 44 سے منسوب ویڈیوز اور معلومات سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیوز کسی نئے عسکری انکشاف اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی ملی ہے اور بعض کلپس کو 10 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔
صارفین نے ان ویڈیوز کو ایرانی طاقت اور حالیہ ایرانی عسکری تیاریوں کے طور پر پیش کیا، جس سے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
الجزیرہ اوپن سورس انویسٹی گیشن یونٹ نے ان ویڈیوز اور دعووں کی جانچ کے لیے بصری مواد کا تجزیہ کیا۔
Iran reveals its protected fighter jets in secret underground air bases. pic.twitter.com/vZD2mblI5t
— Major Sammer Pal Toorr (Infantry Combat Veteran) (@samartoor3086) March 31, 2026
ٹیم نے ان ویڈیوز کا موازنہ آرکائیوز میں موجود مواد سے کیا اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ ٹولز کے ذریعے ان کے نشر ہونے کے وقت اور سیاق و سباق کا جائزہ لیا۔
تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ ویڈیوز ہرگز نئی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق کسی حالیہ پیش رفت سے ہے۔
یہ فوٹیج دراصل 7 فروری 2023ء کو جاری ہونے والے سرکاری اعلان سے متعلق ہے، جب تہران نے پہلی بار عقاب 44 بیس کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
🇮🇷 Iran unveils an underground air force base Oghab 44 (Eagle 44), IRNA says
— PiQ (@PiQSuite) February 7, 2023
"It is one of the army's most important air force bases, with fighters equipped with long-range cruise missiles and built in the depths of earth," IRNA added.https://t.co/wCGT2PZDsw pic.twitter.com/hseMDV4P6p
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کی جانب سے 2023ء میں جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ ایک انتہائی محفوظ زیر زمین تنصیب ہے۔
اِس تنصیب کو لڑاکا طیاروں، بمبار طیاروں اور ڈرون کے آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے اور اچانک کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔
موجودہ ویڈیوز اور 2023ء میں سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والے مواد کا بصری موازنہ کرنے پر مکمل مطابقت پائی گئی ہے۔
رونمایی از نخستین پایگاه هوایی زیرزمینی نیروی هوایی ارتش
— خبرگزاری ایسنا (@isna_farsi) February 7, 2023
*نیروی هوایی #ارتش از نخستین پایگاه هوایی زیرزمینی خود با نام عقاب ۴۴ رونمایی کرد
*این پایگاه بزرگ زیرزمینی، قابلیت پذیرش و بکارگیری عملیاتی جنگندههای جدید نیروی هوایی ارتش را نیز خواهد داشتhttps://t.co/06DWu91MVR pic.twitter.com/ffwUddhjno
ان ویڈیوز میں وہ مناظر بھی شامل ہیں جن میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی کو بیس کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
اس وقت کی سرکاری رپورٹ میں بیس کے درست جغرافیائی محل وقوع کو خفیہ رکھا گیا تھا، تاہم صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ یہ کسی پہاڑی سلسلے میں واقع ہے اور اسے امریکی ساختہ بنکر بسٹر بموں کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے خاص طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایرانی عسکری مواد کو غلط سیاق و سباق میں پیش کیا گیا ہو۔
اس سے قبل مئی 2022 میں بھی ایران نے زاگروس کے پہاڑی سلسلے میں ڈرون طیاروں کے لیے ایک الگ زیر زمین بیس کا انکشاف کیا تھا، جہاں 100 سے زائد ڈرونز موجود تھے۔