مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات ایشیائی ممالک تک پھیل چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
توانائی کی فراہمی میں تعطل، سپلائی چین کے مسائل اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے خطے کی بڑی معیشتوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس سے افراطِ زر کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق گزشتہ ماہ ایشیا میں ایل این جی (LNG) کی درآمدات میں 3 برس کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فوری قلت کے باعث گیس کی
قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ اسپاٹ کارگوز کے لیے مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔
چین اور بھارت پر اثرات
مارچ کے دوران چین اور بھارت نے گیس کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے۔
یہ رجحان توانائی کی منڈیوں میں گہرے اضطراب کا عکاس ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سبب توانائی کی اہم ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے عالمی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
چین کے صنعتی و ہوابازی شعبے پر دباؤ
بیجنگ میں موجودہ حالات کے تناظر میں اقتصادی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
مقامی ایئر لائنز نے ایندھن کے اخراجات بڑھنے کے بعد اندرونِ ملک پروازوں کے ٹکٹوں پر سرچارج 6 گنا تک بڑھا دیا ہے۔
اس کے علاوہ چین کی اسٹیل برآمدات کا 42 فیصد مشرقِ وسطیٰ پر منحصر ہے، جس کے باعث یہ صنعتی شعبہ خطرے کی زد میں ہے۔
چین کو ’درآمدی افراطِ زر‘ کا خطرہ
چینی مرکزی بینک نے ’درآمدی افراطِ زر‘ کے خطرے سے بھی خبردار کردیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر کا اضافہ بھی درآمدی بل میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر دیتا ہے۔ اگرچہ حکام ایندھن کی قیمتیں مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن عالمی منڈی میں جاری بحران اس توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان اپنی جغرافیائی صورتحال کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے پیدا ہونے والے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
اسلام آباد حکومت نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایل این جی کی قیمتوں میں تیسری بار اضافہ کرتے ہوئے اسے 34 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایندھن اور بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کے ساتھ لوڈشیڈنگ بڑھنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا اور عالمی سپلائی چین
اُدھر جنوب مشرقی ایشیا میں ریفائننگ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
خلیج میں ہزاروں بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے متبادل راستے اختیار کیے جا رہے ہیں، جس نے نقل و حمل کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
اگر توانائی کی ترسیل میں تعطل برقرار رہا تو ایشیائی منڈیوں میں قیمتوں کا بحران مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی ترقی کی رفتار سست پڑنے اور سماجی دباؤ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔