اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ایران پر اُڑنے والے ایٹمی صلاحیت کے حامل امریکی بی۔52 بمبار طیارے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے تصدیق کی ہے کہ امریکی بی-52 اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیاروں نے ایران کی فضائی حدود میں پہلی بار پرواز مکمل کی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے آواز سے کم رفتار پر 15 ہزار 166 میٹر سے زائد بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں۔ 

امریکی فضائیہ کے مطابق یہ طیارے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ترین روایتی گائیڈڈ ہتھیار لے جانے کی غیر معمولی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

مختلف جنگی محاذوں پر فعالیت

روایتی تنازعات کے دوران بی-52 طیارے اسٹریٹجک حملوں، قریبی فضائی مدد اور جوابی فضائی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ طیارے بحری آپریشنز، دشمن کے بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں اور سمندری حدود میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جو انہیں ایک ورسٹائل جنگی پلیٹ فارم بناتی ہے۔

us b52 bomber 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

نگرانی اور درست ہدف

بی-52 طیارے سمندری حدود کی نگرانی میں بے مثال ہیں۔ صرف 2طیارے 2گھنٹے کے مختصر دورانیے میں 3 لاکھ 64 ہزار مربع کلومیٹر کے سمندری رقبے کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

اِن میں موجود جدید الیکٹرو آپٹیکل سینسرز اور انفراریڈ ویژن سسٹم اہداف کی نشاندہی کو انتہائی درست اور محفوظ بناتے ہیں۔

نائٹ ویژن اور جدید نیوی گیشن

آپریشنز کے دوران پائلٹ نائٹ ویژن چشموں کا استعمال کرتے ہیں، جو اندھیرے میں زمینی خد و خال اور دشمن کے طیاروں کو پہچاننے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی پیچیدہ موسمی حالات اور تاریکی میں بھی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی ضمانت فراہم کرتی ہے، جس سے فضائی عملے کی حفاظت یقینی بنتی ہے۔

us b52 bomber 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

طویل فاصلے اور ایندھن کی فراہمی

جدید ٹارگٹنگ اور امیج پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کی بدولت بی-52 طیارے لیزر گائیڈڈ بموں اور جی پی ایس کے حامل ہتھیاروں سے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اوپر بی-52 کی پرواز خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں اضافے کا واضح اشارہ ہے۔ 

طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت اور جدید ترین میزائل سسٹم سے لیس یہ طیارے ایرانی سیکیورٹی اور عسکری توازن کے لیے بڑا چیلنج بھی ہیں۔

us b52 bomber 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)