مچھروں کے کاٹنے کا عمل صرف خارش تک محدود نہیں بلکہ یہ جان لیوا امراض کا سبب بھی بنتا ہے۔
مزید پڑھیں
دنیا بھر میں مچھروں کی 3500 سے زائد اقسام موجود ہیں، جو ملیریا، زیکا اور زرد بخار جیسی بیماریوں کے ذریعے سالانہ 7 لاکھ سے زائد اموات کا باعث بنتی ہیں۔
جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے ماہرین نے ایک ریاضیاتی ماڈل تیار کیا ہے۔
یہ ماڈل مادہ مچھروں کی پرواز اور ان کے انسانوں تک پہنچنے کی
پیش گوئی کرتا ہے۔ اس کے لیے محققین نے سیکڑوں مچھروں کی نقل و حرکت کا باریکی سے تجزیہ کیا ہے۔
تھری ڈی کیمروں سے مشاہدہ
تحقیق میں سائنسدانوں نے انفراریڈ تھری ڈی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے مچھروں کے بصری اشاروں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے تعاقب کا مشاہدہ کیا ہے۔
تجربے کے دوران انسان کے ملبوسات کے رنگ تبدیل کر کے دیکھا گیا کہ مچھر کس طرح ہدف کے گرد منڈلاتے ہیں اور اپنی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
مچھروں کا گروہی رویہ
تحقیق کے مطابق مچھر ایک دوسرے کی پیروی نہیں کرتے بلکہ ہر مچھر آزادانہ طور پر ماحولیاتی اثرات پر ردعمل دیتا ہے۔
ماہر ڈیوڈ ہو کا کہنا ہے کہ یہ بالکل ایک مصروف کیفے جیسا ہے، جہاں گاہک مشروبات اور موسیقی کی کشش سے خود بخود جمع ہو جاتے ہیں۔
بصری اشارے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ
تجربات سے ثابت ہوا کہ سیاہ رنگ کے اجسام اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا امتزاج مچھروں کو سب سے زیادہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔
جب یہ دونوں عوامل ایک ساتھ موجود ہوں تو مچھر علاقے پر حملہ کرتے ہیں اور وہاں رُک کر خون چوسنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جسم کے کن حصوں پر زیادہ حملہ؟
محقق کرسٹوفر زو پر کیے گئے تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھروں کا سب سے زیادہ اجتماع سر اور کندھوں کے گرد ہوتا ہے۔
مچھروں نے لباس کے رنگ کے حساب سے اپنے ہدف کو پہچانا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بصری اشارے ان کی رہنمائی میں اہم ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی
محققین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مچھر مارنے کے جدید طریقوں میں انقلاب لا سکتی ہے۔
موجودہ ٹریپ یا پھندے جو مستقل کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، ان کے بجائے وقفے وقفے سے اشارے چھوڑنا مچھروں کو قابو کرنے کے لیے زیادہ مؤثر اور کامیاب طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مچھروں کا رویہ کسی طے شدہ منصوبے کے بجائے مخصوص سائنسی اصولوں کے تابع ہے۔
یہ پیش رفت آئندہ برسوں میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خاتمے اور ان کے خلاف زیادہ مؤثر حفاظتی اقدامات وضع کرنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔