اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ایک ماہ کی جنگ: مشرقِ وسطیٰ کو 186 ارب ڈالر کا نقصان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: امریکی سینٹ کام، بذریعہ عالمی میڈیا)

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد جاری جنگ کے محض ایک ماہ میں خطے کی مجموعی معیشت کو 186 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق یہ انکشاف اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور یو این ڈی پی کے علاقائی نمائندے عبداللہ الدردری نے منگل کو عمان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جنگ فوراً رُک جائے، کیونکہ ہر گزرتا دن عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔

یو این ڈی پی کے مطابق جنگ کے پہلے ہی مہینے میں مشرقِ وسطیٰ

کی مجموعی جی ڈی پی میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کا مالی حجم تقریباً 186 ارب ڈالر بنتا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

الدردری نے خبردار کیا کہ اگر تنازع اسی طرح برقرار رہا تو نقصان 190 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتا ہے اور اثرات زیادہ گہرے اور دیرپا ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق معاشی نقصان کا سب سے بڑا حصہ خلیجی خطے کو برداشت کرنا پڑا ہے، جہاں مجموعی خسارہ 168 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ بلادِ شام پر جنگ کے اثرات تقریباً 30 ارب ڈالر کے نقصان کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکا و اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے بعد تہران نے خلیجی ریاستوں پر میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کے بعد سے آبنائے ہرمز عملاً بند پڑی ہے۔ 

اس گزرگاہ سے دنیا کی پانچواں حصہ تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے اور ایرانی حملوں و بحری خطرات کے بعد شپنگ سرگرمیاں 95 فیصد تک کم ہو چکی ہیں۔

عبداللہ الدردری نے کہا کہ عرب ممالک کی معیشتیں اب بھی حد سے زیادہ تیل پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے خطے کو زیادہ متنوع اقتصادی ماڈل کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہرمز جیسے حساس راستے پر نصف صدی سے موجود جغرافیائی خطرات کے باوجود خطے نے متبادل تجارتی راستوں اور پائپ لائنز پر سنجیدہ پیش رفت نہیں کی، اب وقت آ گیا ہے کہ نئی حکمت عملی اپنائی جائے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق حالیہ جاری جنگ کے باعث خطے میں 37 لاکھ (3.7 ملین) نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہونے کے ساتھ ساتھ 40 لاکھ افراد کے مزید غربت کا شکار ہونے کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تنازع صرف توانائی کے شعبے یا سرکاری آمدنی ہی نہیں بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکا ہے۔