عالمی فضائی صنعت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو 2026 میں شعبے کے 41 بلین ڈالر کے متوقع منافع کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایوی ایشن سیکٹر ’بقا کے چیلنج‘ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کمپنیوں کو دو مشکل راستوں میں سے انتخاب کرنا پڑ رہا ہے:
یا تو طلب بڑھانے کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں کم کریں
یا بڑھتی ایندھن کی لاگتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قیمتیں بڑھائیں۔
مزید پڑھیں
اضافے اور آپریشنل کمی
یونائیٹڈ ایئر لائنز کے سی ای او اسکاٹ کرِبی نے خبردار کیا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیشِ نظر ہوائی جہاز کے کرایوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسی دباؤ کے پیشِ نظر کیتھے پیسیفک نے ایک ماہ کے اندر اپنی فیسیں دو بار بڑھائیں، جس سے بعض پروازوں پر 800 ڈالر تک کا اضافہ ہوا۔
مالی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی ایئر لائنز نے اپنی آپریشنل صلاحیت کم کر دی ہے۔ بارکلیز کے اینڈریو لوبنبرگ کے مطابق صلاحیت میں کمی ہی اس وقت واحد ذریعہ ہے جو شعبے کی قیمتوں کو بلند رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مالی فرق اور متبادل
ماہرین کے مطابق اس بحران سے مضبوط مالی حیثیت رکھنے والی بڑی ایئر لائنز اور کم وسائل والی کمپنیوں کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔
آئی بی اے کے ڈان ٹیلر کا کہنا ہے کہ مالی طور پر کمزور کمپنیاں نقد بہاؤ اور مقابلہ برقرار رکھنے میں دباؤ کا سامنا کریں گی۔
مزید برآں سپلائی چین میں مسائل اور نئے، ایندھن بچانے والے جہازوں کی تاخیر نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے کیونکہ کمپنیاں درمیانے مدت میں آپریشنل لاگت کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ کھو رہی ہیں۔
بکنگ میں حساس صارفین ممکنہ طور پر سستے متبادل جیسے ریل یا بس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں، جس سے ہوائی سفر کی مستقبل کی نمو ایک حقیقی امتحان میں آ سکتی ہے، جیسا کہ بینک آف امریکہ کے نیتھن جی نے نشاندہی کی ہے۔