سعودی ریلوے (سار) نے مملکت کی بندرگاہوں کو اُردن اور دیگر شمالی ممالک سے جوڑنے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ منصوبہ دمام اور جبیل کی اہم بندرگاہوں کو الحدیشہ بارڈر کے ذریعے علاقائی تجارت سے منسلک کرے گا۔
اس نئے لاجسٹک روٹ کے تحت دمام کی شاہ عبدالعزیز بندرگاہ، جبیل کی شاہ فہد صنعتی بندرگاہ اور جبیل کمرشل پورٹ کو براہ راست ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مشرق وسطیٰ میں تجارتی سرگرمیوں کو تیز رفتار اور محفوظ بنانا ہے۔
سعودی ریلوے کے مطابق 1700 کلومیٹر سے زائد طویل اس کوریڈور پر مال بردار ٹرینوں کی آمد و رفت سے سفر کا وقت اب آدھا رہ جائے گا۔
یہ کوریڈور روایتی سڑکوں کے مقابلے میں سامان کی ترسیل کے لیے انتہائی موثر اور قابل اعتماد ثابت ہوگا۔
اس روٹ پر چلنے والی ایک مال بردار ٹرین 400 سے زائد کنٹینرز لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مملکت کی برآمدات اور ری ایکسپورٹ کے شعبوں کو نئی زندگی ملے گی اور سپلائی چین کا نظام مزید بہتر ہوگا۔
اس منصوبے کے نتیجے میں سڑکوں سے ہزاروں ٹرکوں کا بوجھ کم ہو جائے گا جس سے انفرا اسٹرکچر کی حفاظت اور ٹریفک سیکیورٹی بھی یقینی ہوگی۔
مزید برآں ٹرینوں کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں کمی واقع ہوگی جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یہ اقدام سعودی ویژن 2030 اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز کی قومی حکمت عملی کے اہداف کا حصہ ہے۔