اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ایران جنگ کے دوران امریکا نے بھاری ہتھیاروں کے بڑے معاہدے کرلیے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم (فوٹو: رائٹرز)

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے میزائلوں اور گولہ بارود کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافے کے لیے 3 اہم دفاعی معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔

مزید پڑھیں

یہ پیش رفت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے  3 ہفتے مکمل ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔

العربیہ کے مطابق پینٹاگون نے بی اے ای سسٹمز اور لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ ایک فریم ورک معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کے سیکرز کی پیداوار 4 گنا بڑھانا ہے۔

اس اقدام سے امریکی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جنگی ضروریات کے 

مطابق مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

علاوہ ازیں ہنی ویل ایرو اسپیس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت نیوی گیشن سسٹم، الیکٹرانک وارفیئر سلوشنز اور ہنی ویل ایشور ایکچیوٹرز جیسے اہم اجزا کی تیاری تیز کی جائے گی۔

اس منصوبے کے لیے 500 ملین ڈالر کی کئی سالہ سرمایہ کاری مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ ایک اور معاہدہ پریسیژن اسٹرائیک میزائلوں کی تیاری میں تیزی لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ 

اس معاہدے کے تحت کمپنی جدید آلات، تنصیبات کی اپ گریڈیشن اور ٹیسٹنگ کے نظام کو بہتر بنا کر پیداواری وقت کو کم سے کم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کرے گی۔

ان دفاعی معاہدوں کے تحت مستقبل میں 7 سال تک کی طویل مدتی شراکت داری کی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کے لیے امریکی کانگریس کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔ 

اس طویل مدتی حکمت عملی کا مقصد جنگی حالات میں اسلحہ کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

جے پی مورگن چیز کے سی ای او جیمی ڈیمن نے امریکی صنعتی صلاحیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جنگ کے دوران ہتھیاروں کی پیداوار تیزی سے بڑھانے میں ناکام رہا ہے۔ 

انہوں نے پینٹاگون کے دورے کے بعد اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

جیمی ڈیمن کے مطابق خریداری کے قواعد، سیاسی رکاوٹیں، بجٹ کی سختی اور ریگولیٹری بوجھ دفاعی پیداوار کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ 

انہوں نے فوجی اخراجات میں اضافے اور سپلائی چین کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بحران سے نمٹا جاسکے۔