اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

بوشہر تا ڈیمونا: کیا جوہری تنازع ایک نئے ’چرنوبل‘ کو جنم دے سکتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جوہری دھماکا (فوٹو: انٹرنیٹ)

جب بھی کسی ایٹمی خطرے کا ذکر ہوتا ہے تو انسانی ذہن میں 2 ہیبت ناک تصویریں ابھرتی ہیں۔ پہلی ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بم اور دوسری چرنوبل پاور پلانٹ سے ہونے والا تابکار اخراج۔

مزید پڑھیں

آج مشرقِ وسطیٰ میں امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بڑھتی عسکری کشیدگی نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا ہم تاریخ کے تیسرے بڑے ایٹمی حادثے کے دہانے پر کھڑے ہیں؟

اس وقت یہ سوال کرنا بالکل بے جا نہیں کہ کیا بوشہر یا ڈیمونا جیسے ری ایکٹرز پر کوئی فوجی کارروائی دنیا کو ایک اور چرنوبل جیسے المیے سے دوچار کر سکتی ہے؟

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

ایٹم بم اور ری ایکٹر دھماکا

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ایٹمی ری ایکٹر پر حملہ ایٹم بم گرانے کے برابر ہوتا ہے، لیکن ایٹمی طبیعیات (Nuclear Physics) کے ماہر ڈاکٹر علی عبدہ کے مطابق یہ ایک غلط فہمی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایٹم بم ایک ایسا ڈیزائن ہے جو لمحوں میں کروڑوں ڈگری درجہ حرارت کی آگ کا گولا پیدا کرتا ہے، جو کلومیٹرز کے فاصلے تک ہر چیز کو بھاپ بنا دیتا (پگھلا دیتا) ہے اور میلوں دُور تک عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔

اس کے برعکس ایٹمی ری ایکٹر کا دھماکا چرنوبل کی طرح ہوتا ہے، جہاں ایٹمی لہر (Mushroom Cloud) کے بجائے تابکار مواد فضا میں بکھر جاتا ہے۔

یہ مواد ہوا کے ذریعے سیکڑوں کلومیٹر دور تک پھیل سکتا ہے اور مٹی و پانی کو ہزاروں سالوں کے لیے زہریلا بنا سکتا ہے۔

chernobyl nuclear disaster
چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر (فوٹو: انٹرنیٹ)

بوشہر اور ڈیمونا کے ری ایکٹرز

بوشہر (ایرانی ری ایکٹر) اور ڈیمونا (اسرائیلی ری ایکٹر) جیسے پلانٹس کو انتہائی مضبوط بنایا گیا ہے۔

بوشہر کے روسی ساختہ (VVER-1000) ری ایکٹرز کسی مسافر طیارے کے براہِ راست ٹکراؤ کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی حفاظت 3 بڑی تہوں پر مبنی ہوتی ہے:

  1. حفاظتی کنٹینمنٹ (Shielding): یہ 1.2 سے 2.5 میٹر موٹی کنکریٹ اور اسٹیل کی تہہ ہوتی ہے جو تابکاری کو باہر نکلنے سے روکتی ہے۔
  2. اندرونی عمارت: یہ ری ایکٹر کے قلب (Core) کو ڈھانپنے والی ایک اور موٹی دیوار ہوتی ہے۔
  3. ری ایکٹر کور (The Core): یہ وہ حساس ترین مقام ہے جہاں ایندھن کی سلاخیں (Fuel Rods) موجود ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جدید ’بنکر شکن بم‘جیسے کہ GBU-57 (جس کا وزن 13 ٹن سے زائد ہے) استعمال کیے جائیں۔ 

یہ بم پھٹنے سے پہلے ہی زمین اور کنکریٹ کی تہوں میں گہرائی تک اترنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں اور اگر ایسا کوئی بم ری ایکٹر کے قلب تک پہنچ جائے تو چرنوبل جیسی تباہی یقینی ہو سکتی ہے۔

iranian bushehr city nuclear plant
بوشہر (فوٹو: انٹرنیٹ)

چرنوبل اور فوکوشیما: انسانی غلطی سے فوجی حملے تک

تاریخی طور پر چرنوبل کا حادثہ انسانی غلطی سے ہوا، جبکہ فوکوشیما (جاپان) کا حادثہ زلزلے اور سونامی کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

ان دونوں صورتوں میں کولنگ سسٹم (ٹھنڈا رکھنے کا نظام) ناکام ہوا، ہائیڈروجن گیس بنی اور دھماکا ہو گیا۔

ڈاکٹر علی عبدہ کے مطابق اگر کسی فوجی حملے میں ری ایکٹر کے کولنگ سسٹم یا استعمال شدہ ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے تالابوں (Spent Fuel Pools) کو نشانہ بنایا جائے تو تابکاری کا اخراج شروع ہو سکتا ہے۔ 

استعمال شدہ ایندھن بھی انتہائی تابکار ہوتا ہے اور اس کی تپش بڑھنے سے زہریلا غبار فضا میں پھیل سکتا ہے۔

تباہی میں ہوا اور بارش کا کردار

اگر خدانخواستہ بوشہر یا ڈیمونا پر کوئی ایسا حملہ کامیاب ہو جاتا ہے جو ری ایکٹر کے قلب کو چیر دے تو نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

تابکار غبار (Radioactive Fallout) کا پھیلاؤ مکمل طور پر اس وقت کی ہوا کے رُخ اور بارش پر منحصر ہوگا۔

  • ہوا: تابکار ذرات کو سیکڑوں کلومیٹر دُور دوسرے ممالک تک لے جا سکتی ہے۔
  • بارش: یہ تابکار مواد کو تیزی سے زمین پر بٹھا کر پینے کے پانی اور فصلوں کو فوری طور پر ناقابلِ استعمال بنا دیتی ہے۔

مختصراً یہ کہ اگرچہ جدید ری ایکٹرز روایتی حملوں سے محفوظ بنائے گئے ہیں لیکن پھر بھی بنکر شکن ٹیکنالوجی اور جنگی جنون اس حفاظتی دیوار میں شگاف ڈال سکتے ہیں۔

خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی تنصیبات پر کسی بھی درجے کی کارروائی کا دعویٰ کرنا دراصل آگ کے ڈھیر پر بیٹھ کر چنگاری سے کھیلنے کے مترادف ہے، جس کا نتیجہ ایک نئی چرنوبل کی صورت میں نکل سکتا ہے جو سرحدوں کو نہیں پہچانتی۔