برطانیہ اور نیٹو نے ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے دعووں کی کھل کر تردید کردی۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے پیر کے روز بیان میں کہا کہ ایسے کوئی انٹیلی جنس شواہد موجود نہیں ہیں جو اس بات کی تصدیق کریں کہ ایران نے بحر ہند میں واقع ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
سٹارمر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی حکومت سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم فی
الحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ مذکورہ اڈے کو کسی ایرانی حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
واضح رہے کہ یہ بیان ان رپورٹس کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ہفتے کے آخر میں ڈیاگو گارشیا میں موجود مشترکہ امریکی و برطانوی فوجی اڈے کی جانب 2 بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، تاہم ان میزائلوں سے اڈے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے بھی ان اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد اس اسرائیلی دعوے کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈیاگو گارشیا کی جانب داغے گئے میزائل ایرانی بیلسٹک میزائل تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے 4 ہزار کلومیٹر رینج والا 2 مرحلوں کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل استعمال کیا ہے۔
انہوں نے اپنے دعوے میں مزید کہا تھا کہ یہ میزائل صرف اسرائیل نہیں بلکہ لندن، پیرس اور برلن جیسے یورپی دارالحکومتوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایکس پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر حملے سے متعلق اسرائیل کے تمام دعوے مکمل طور پر گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔
قبل ازیں برطانیہ نے (گزشتہ جمعہ کو) اعلان کیا تھا کہ وہ واشنگٹن کو ڈیاگو گارشیا اور انگلینڈ کے جنوب مغرب میں واقع فیئر فورڈ اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ کیئر سٹارمر نے پہلے ان اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے گریز کیا تھا لیکن بعد ازاں دفاعی نوعیت کے آپریشنز کے لیے منظوری دے دی تھی۔
ان کی اس ہچکچاہٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید تنقید بھی کی تھی اور پھر سٹارمر سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا تھا۔
اسی دوران برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کسی بھی کوشش کے لیے انتہائی محتاط منصوبہ بندی درکار ہے اور ان کی اولین ترجیح برطانوی مفادات کا تحفظ اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
برطانیہ نے اس سے قبل بارہا اس عزم کو دہرایا کہ کوئی بھی ملک برطانیہ کو اس تنازع میں نہیں گھسیٹ سکتا، جبکہ برطانوی حکام کا بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں کہ ایران برطانیہ کو براہ راست نشانہ بنا رہا ہے یا ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ بحر ہند میں واقع ڈیاگو گارشیا ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک فوجی اڈہ ہے جو برطانوی جزیرے پر قائم ہے۔
یہ اڈہ امریکی بمبار طیاروں، جوہری آبدوزوں اور گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے جنگی جہازوں کی میزبانی کے لیے عالمی سطح پر کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔