مبینہ امریکی فوجی افسر جیسیکا فوستر نے انسٹاگرام پر صرف 4 ماہ میں ایک لاکھ سے زائد فالورز حاصل کر لیے۔
فوستر کی تصاویر میں اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمیر پوٹن، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی اور امریکی لڑاکا طیارے F-22 رپٹر کے ساتھ دکھایا گیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق تفتیش سے ظاہر ہوا کہ فوستر حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق شدہ ایک فرضی شخصیت ہے۔
کوئی عوامی ریکارڈ اس کے فوجی خدمات کا ثبوت نہیں دیتا، اور انسٹاگرام نے اس کا اکاؤنٹ ہٹا دیا کیونکہ یہ پلیٹ فارم کی پالیسی کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔
Witness کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سام گریگوری کے مطابق، فوستر کا کیس
جدید AI ٹولز کی دھوکہ دہی کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب آسانی سے ایک ہم آہنگ جعلی شخصیت بنائی جا سکتی ہے جو مختلف تصاویر اور ویڈیوز میں حقیقی عوامی شخصیات کے ساتھ دکھائی جا سکے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ اہم واقعات کے مرکز میں موجود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس طرح کے اکاؤنٹس سیاسی رنگ دے کر زیادہ وائرل ہوتے ہیں اور فالورز کو پیڈ مواد کی طرف راغب کرتے ہیں۔
متعدد دیگر اکاؤنٹس نے بھی AI سے بنائی گئی خواتین کو فوجی، ٹرک ڈرائیور یا پولیس اہلکار کے طور پر پیش کیا اور یہ اکاؤنٹس ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس پر بڑی تعداد میں فالورز حاصل کر چکے ہیں۔
یہی حکمت عملی امریکہ کے باہر بھی دیکھی گئی، جہاں ایرانی فوجی خواتین کی AI تخلیق شدہ ویڈیوز وائرل ہوئیں۔