اہم خبریں
15 May, 2026
--:--:--

نومبر 2025 میں سعودی تجارتی سرپلس 22.3 ارب ریال تک پہنچ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

سعودی عرب کا تجارتی توازن نومبر 2025 کے دوران نمایاں بہتری کے ساتھ 22.3 ارب ریال کے سرپلس تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 70.2 فیصد زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹکس (ادارہ شماریات) کی جانب سے جاری بین الاقوامی تجارت سے متعلق نومبر کی رپورٹ کے مطابق سرپلس میں سالانہ بنیاد پر 9.2 ارب ریال کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ واضح رہے کہ نومبر 2024 میں یہی سرپلس 13.1 ارب ریال تھا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیاد پر بھی تجارتی توازن میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، جس کے مطابق اکتوبر 2025 میں سرپلس تقریباً 

21.3 ارب ریال تھا، جو نومبر میں بڑھ کر 22.3 ارب ریال ہو گیا، یوں ایک ماہ میں 5.2 فیصد یا 1.1 ارب ریال کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

نومبر کے دوران مملکت کی مجموعی بین الاقوامی تجارت کا حجم تقریباً 177.1 ارب ریال رہا۔ اس میں سے 99.7 ارب ریال کی اشیا کی برآمدات جبکہ 77.4 ارب ریال کی درآمدات شامل تھیں۔

saudi trade surplus 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

نومبر میں غیر تیل (نان آئل) قومی برآمدات 18.9 ارب ریال رہیں جو مجموعی برآمدات کا 19 فیصد بنتی ہیں۔ اس شعبے میں سالانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافہ ہوا، جو مالیت کے لحاظ سے 851 ملین ریال کے برابر ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2024 میں غیر تیل برآمدات کا حجم 18.1 ارب ریال تھا۔

اسی طرح تیل برآمدات کی مالیت 67 ارب ریال سے تجاوز کر گئی، جو مجموعی برآمدات کا 67.2 فیصد ہے۔ اس مد میں سالانہ بنیاد پر 5.4 فیصد اضافہ ہوا اور 3 ارب ریال سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں تیل برآمدات 63.6 ارب ریال تھیں۔

ری ایکسپورٹ یعنی دوبارہ برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ سامنے آیا۔ اس کی مالیت 13.7 ارب ریال رہی جو سالانہ بنیاد پر 53.1 فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی برآمدات میں ری ایکسپورٹ کا حصہ 13.8 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ مالیت 8.9 ارب ریال تھی۔

saudi ports authority 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مملکت کے تجارتی شراکت داروں کے حوالے سے ایشیائی ممالک سرفہرست رہے جنہوں نے سعودی عرب سے 74.9 ارب ریال مالیت کی درآمدات کیں، جو مجموعی برآمدات کا 75.2 فیصد ہے۔

یورپی ممالک 9.7 فیصد یا 9.7 ارب ریال کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ امریکی ممالک کا حصہ 7.5 فیصد رہا جن کی مالیت 7.5 ارب ریال رہی۔ اس حوالے سے چین بدستور سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک رہا، جس نے 13.5 ارب ریال کی سعودی برآمدات درآمد کیں اور اس کا حصہ 13.5 فیصد رہا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نومبر 2025 میں سعودی عرب کی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت آئی اور برآمدات میں اضافے نے تجارتی سرپلس کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔