اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

مصری آثارِ قدیمہ کا کرنک مندر: دنیا کی قدیم ترین فلکیاتی رصدگاہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

مصر کے تاریخی شہر اقصر میں واقع کرنک مندر کو طویل عرصے سے ایک مذہبی و تعمیراتی شاہکار کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، تاہم ایک نئی مصری آثارِ قدیمہ کی تحقیق نے اس معروف یادگار کی ایک اور حیران کن جہت سے متعارف کرایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

نئی تحقیق کے مطابق مشرقی اقصر میں واقع یہ قدیم مندر صرف عبادت کا مقام نہیں تھا بلکہ قدیم زمانے میں اسے ایک منظم فلکیاتی رصدگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

یہ مطالعہ مصری محقق ایمن ابوزید نے تیار کیا ہے، جس پر حال ہی میں جامعہ اقصر میں منعقد ہونے والی تیسری بین الاقوامی کانفرنس برائے آثارِ قدیمہ میں بحث کی گئی۔

اس تحقیق نے کرنک مندر کو محض ایک مذہبی یا تعمیراتی کمپلیکس کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل فلکیاتی نظام کے طور پر دوبارہ متعارف کرانے کا باب کھولا ہے۔ مطالعے کے مطابق قدیم مصری ماہرین فلکیات نے اس مندر کو سورج کی حرکت کا مشاہدہ کرنے، وقت کی پیمائش کرنے اور کائناتی گردشوں سے جڑے مذہبی شعائر اور رسومات کو منظم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

karnak temple complex egypt 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

تحقیق میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کرنک مندر قدیم دنیا کی اہم ترین فلکیاتی رصدگاہوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

قدیم مصریوں کا فلکیاتی شعور

ایمن ابوزید، جو مصری سیاحتی و آثارِ قدیمہ ترقیاتی انجمن کے سربراہ بھی ہیں، نے جرمن خبر رساں ادارے (ڈی پی اے) سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی تحقیق اور اس سے قبل ہونے والے مطالعات کا مقصد قدیم مصر میں فلکیاتی علوم اور ان کا معابد سے تعلق واضح کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ تحقیقات نہ صرف مصر کی سائنسی تاریخ کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ قدیم مصری تعمیرات اور فلکیاتی علم کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے نئے دروازے کھولتی ہیں۔

تعمیرات میں چھپا فلکیاتی راز

karnak temple complex egypt 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مصری قدیم فنِ تعمیر میں فلکیاتی حساب کتاب کو بڑی مہارت سے شامل کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مندر کی سمت، داخلی راستوں کی ترتیب، ستونوں کی قطاریں اور سورج کی روشنی کا مخصوص اوقات میں اندرونی حصوں تک پہنچنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سب محض اتفاق نہیں تھا۔

ایمن ابوزید کے مطابق کرنک ہی نہیں بلکہ مصر کے مختلف تاریخی صوبوں میں موجود دیگر آثارِ قدیمہ بھی فلکیاتی رازوں سے بھرے ہوئے ہیں، جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کرنک: بڑے اور ترین آثارِ قدیمہ

کرنک مندر جنوبی مصر کے شہر اقصر میں واقع ایک وسیع مذہبی کمپلیکس ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے اور اہم آثارِ قدیمہ کے مقامات میں شمار کیا جاتا ہے اور صدیوں تک مختلف فرعونوں نے اس میں توسیع کی، جس کے نتیجے میں یہ ایک عظیم الشان تعمیراتی اور مذہبی مرکز بن گیا۔

اب نئی تحقیق کے بعد یہ امکان مزید مضبوط ہوا ہے کہ یہ مقام نہ صرف روحانی سرگرمیوں کا مرکز تھا بلکہ فلکیاتی مشاہدات اور وقت کی تنظیم کا بھی ایک منظم مرکز رہا ہوگا۔

karnak temple complex egypt 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

فلکیات اور عبادت کا باہمی تعلق

قدیم مصری تہذیب میں سورج، چاند اور ستاروں کو مذہبی اہمیت حاصل تھی۔ عبادات اور رسومات اکثر کائناتی گردشوں کے مطابق ترتیب دی جاتی تھیں۔

اگر کرنک مندر واقعی ایک فلکیاتی رصدگاہ کے طور پر کام کرتا تھا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب، سائنس اور فنِ تعمیر قدیم مصر میں ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے بلکہ ایک مربوط نظام کا حصہ تھے۔