اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

افغان حاجی موت کے منہ سے واپس، طبی ٹیم نے جان بچالی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
افغان حاجی برین ہیمرج
جسم کے دائیں حصے میں فالج جیسی علامات ظاہر (فوٹو: سبق)

مدینہ منورہ میں کنگ سلمان میڈیکل سٹی کے نیورو سرجری کے ماہرین نے ایک پیچیدہ اور جان لیوا طبی صورتحال میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ حاجی کی جان بچا لی، جسے شدید برین ہیمرج کے باعث انتہائی نازک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اسپتال ذرائع کے مطابق مریض کو فوری طور پر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی معائنے کے دوران دماغ میں شدید خون بہنے کی تصدیق ہوئی۔ 

مزید پڑھیں

مریض کے جسم کے دائیں حصے میں مکمل کمزوری، بلند فشارِ خون، اور اعصابی نظام سے متعلق دیگر خطرناک علامات ظاہر ہو رہی تھیں، جس کے باعث صورتحال کو انتہائی ہنگامی قرار دیا گیا۔

طبی ٹیم نے بغیر کسی تاخیر کے جامع ایمرجنسی پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے مریض کے تمام ضروری ٹیسٹ فوری مکمل کیے، جن میں سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی معائنے شامل تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ مریض کی حیاتیاتی علامات ’وائٹل سائنز‘ کی مسلسل اور باریک بینی سے نگرانی کی گئی، جبکہ نیورو سرجری، ایمرجنسی میڈیسن، کارڈیالوجی اور دیگر متعلقہ شعبوں کے درمیان مربوط رابطہ قائم کیا گیا تاکہ مریض کو ہمہ جہت اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق بروقت اور مؤثر طبی مداخلت نے مریض کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ 

فوری سی ٹی اسکین اور مربوط طبی حکمت عملی سے جان بچائی گئی

فوری علاج اور مسلسل مانیٹرنگ کے نتیجے میں مریض کی حالت بتدریج بہتر ہوئی اور وہ زندگی کے خطرناک مرحلے سے باہر آ گیا۔
اس کے بعد مریض کے لیے ایک جامع علاجی منصوبہ ترتیب دیا گیا، جس میں ادویاتی علاج، فالو اپ معائنے، اور بحالی ’ری ہیبیلیٹیشن‘ کے مراحل شامل ہیں۔
اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ مریض کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے مکمل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ صحت یابی کے بعد وہ اپنے حج کے باقی مناسک ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
طبی ٹیم نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ دماغی خون بہنے جیسے کیسز میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے اور بروقت طبی مداخلت زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتی ہے۔

 ماہرین کے مطابق اعلیٰ سطح کی تیاری، جدید طبی سہولیات، اور مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ہی ایسے پیچیدہ کیسز میں کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔

یہ واقعہ سعودی عرب میں حج سیزن کے دوران صحت کے شعبے کی اعلیٰ سطح کی تیاری اور حجاج کے لیے فراہم کی جانے والی معیاری طبی سہولیات کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی نظام مکمل طور پر مستعد اور فعال ہے۔