فوری علاج اور مسلسل مانیٹرنگ کے نتیجے میں مریض کی حالت بتدریج بہتر ہوئی اور وہ زندگی کے خطرناک مرحلے سے باہر آ گیا۔
اس کے بعد مریض کے لیے ایک جامع علاجی منصوبہ ترتیب دیا گیا، جس میں ادویاتی علاج، فالو اپ معائنے، اور بحالی ’ری ہیبیلیٹیشن‘ کے مراحل شامل ہیں۔
اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ مریض کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے مکمل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ صحت یابی کے بعد وہ اپنے حج کے باقی مناسک ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
طبی ٹیم نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ دماغی خون بہنے جیسے کیسز میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے اور بروقت طبی مداخلت زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتی ہے۔
افغان حاجی موت کے منہ سے واپس، طبی ٹیم نے جان بچالی
Overseas Post