خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی ہدایت پر آج جمعرات کو فلپائنی سیامی بچیوں ’کلیا اور مورس آن‘ کی علیحدگی کا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ آپریشن ریاض میں وزارت نیشنل گارڈ کے تحت واقع کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے کنگ عبداللہ اسپتال میں کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق طبی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بن عبد العزیز الربيعہ نے بتایا ہے کہ دونوں بچیاں 17 مئی 2025 کو مملکت پہنچی تھیں، جہاں ان کے تفصیلی معائنے اور متعدد طبی اجلاسوں کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ کیس دنیا کے پیچیدہ ترین کیسز میں سے ایک ہے۔
اس کی وجوہ میں سروں کی پیچیدہ زاویاتی پوزیشن، دماغی وریدی نظام
میں گہرا اشتراک، اور دماغی بافتوں کا باہمی اشتراک شامل ہے۔
مزید یہ کہ بچی ’کلیا‘ دل کی کمزوری، گردوں کے شدید نقص اور مکمل گردہ فیل ہونے جیسے مسائل کا شکار ہے، جس سے آپریشن کے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر معتصم الزعبی کی قیادت میں ٹیم نے آپریشن کو 5 مراحل میں انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں 30 ماہرین، اسپیشلسٹس اور نرسنگ و تکنیکی عملہ مختلف شعبوں جیسے بے ہوشی، انتہائی نگہداشت، جدید امیجنگ اور پلاسٹک سرجری میں حصہ لے رہا ہے۔
متوقع طور پر یہ آپریشن 24 گھنٹے تک جاری رہے گا۔
ڈاکٹر الربيعہ کے مطابق، اس آپریشن میں خطرے کی شرح تقریباً 50 فیصد ہے جبکہ شدید اعصابی پیچیدگیوں اور ممکنہ معذوری کا خطرہ 60 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
اس حوالے سے ایک عالمی طبی مرکز سے بھی مشاورت کی گئی، جس نے اس تشخیص اور خطرات کے اندازے کی تصدیق کی۔
دونوں بچیوں کے والدین کو مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا گیا، جس پر انہوں نے مکمل سمجھ بوجھ کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ یہ آپریشن سعودی پروگرام برائے جڑے ہوئے بچوں کا 70واں کیس ہے، جس نے 1990 سے اب تک 28 ممالک کے 157 جڑواں بچوں کی دیکھ بھال کی ہے۔