ہم اس وقت ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی ممکنہ بات چیت کو ماہرین ’آخری موقع کے مذاکرات‘ قرار دے رہے ہیں۔
یہ مذاکرات پاکستانی دار الحکومت اسلام آباد میں متوقع ہیں تاہم اب بھی یہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ آیا تہران ان میں شرکت کرے گا یا نہیں۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے غیر معمولی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا فریم ورک پہلے ہی تیار ہو چکا ہے۔
انہوں نے مذاکرات کے کامیاب ہونے کی امید بھی ظاہر کی، جبکہ اسرائیل اس دوران تمام ممکنہ منظرناموں پر غور کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں مذاکرات کے حوالے سے ’اچھا
احساس‘ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی کے باوجود سفارتی عمل جاری ہے۔
تاہم انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ایران نے پیشکش قبول نہ کی تو امریکا آسانی سے ایران کے اہم انفراسٹرکچر، جیسے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس حکام کا ماننا ہے کہ مذاکرات میں جلد پیش رفت ممکن ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر شامل ہوں گے، جبکہ پاکستان نے بطور ثالث اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے رابطہ کر کے خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بظاہر ان مذاکرات میں شرکت سے انکار کیا ہے، اگرچہ کچھ بین الاقوامی ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایرانی قیادت کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران اسرائیل نے بھی ہنگامی مشاورت شروع کر دی ہے، کیونکہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ موجود ہے۔
ان مذاکرات کا سب سے اہم اور پیچیدہ پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔
سفارت کاروں کے مطابق ایک ابتدائی فریم ورک معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، جو دو حصوں پر مشتمل ہوگا: ایک جوہری پیکج اور دوسرا اقتصادی پیکج تاہم اصل اختلاف بدستور جوہری معاملے پر ہی قائم ہے۔
مذاکرات میں ایران کے تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، جو مزید افزودگی کے بعد جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ایران کو اصولی طور پر یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے یا نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق امریکا کی سرخ لکیروں میں یورینیم افزودگی کا مکمل خاتمہ، بڑے افزودگی مراکز کو ختم کرنا، اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کو اپنے کنٹرول میں لینا، اور ایک وسیع علاقائی کشیدگی کم کرنے کے فریم ورک کو قبول کرنا شامل ہے، جس میں خطے کے اتحادی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
اقتصادی پہلو سے دیکھا جائے تو مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے کے ممالک کو سکیورٹی ضمانتیں دینے جیسے امور زیر بحث ہیں۔
تاہم سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ ایران سے اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مطالبہ اس وقت تک حقیقت پسندانہ نہیں جب تک اسے وسیع تر سکیورٹی یقین دہانیاں فراہم نہ کی جائیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں سفارت کاری اور طاقت کے استعمال کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں ایک بڑی کشیدگی کم ہو سکتی ہے، بصورت دیگر دنیا ایک نئے اور ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
- کوئی تبصرہ نہیں