بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے امداد کی بحالی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ خوراک کے لیے ملنے والی امداد میں کمی سے ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور وہ اسے کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔
امداد میں کٹوتی اور تقسیم کا نیا نظام
ورلڈ فوڈ پروگرام نے حال ہی میں امداد کی تقسیم کے لیے درجہ بندی کا ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت مہاجرین کو تین زمروں
میں تقسیم کیا گیا ہے، اور امداد کی ماہانہ مقدار 7 سے 12 ڈالر فی کس کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔
بڑھتی مایوسی اور احتجاج
روہنگیا پناہ گزینوں کا مؤقف ہے کہ یہ امداد ناکافی ہے اور اس سے ان کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔
19 جنوری کو ہونے والے ایک احتجاج کے دوران انہوں نے امداد کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آواز اٹھائی اور مطالبہ کیا کہ سب کو مساوی سہولیات فراہم کی جائیں۔
خطرناک سمندری سفر کی بڑھتی لہر
امدادی رقوم میں بار بار کی جانے والی کٹوتیوں نے مہاجرین، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کو اپنی جان جوکھم میں ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے۔
حال ہی میں بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کے واقعات اس بڑھتے ہوئے انسانی المیے اور مایوسی کی تصدیق کر رہے ہیں، جس میں درجنوں افراد لاپتا ہیں۔
معاشی سرگرمیوں پر پابندی کا مسئلہ
روہنگیا تجزیہ کار ثابت حمید کے مطابق کیمپوں میں موجود 10 لاکھ سے زائد افراد محنتی ہیں، لیکن انہیں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ اگر انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ اپنی کفالت خود کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
میزبانی کا بوجھ اور سیاسی رکاوٹیں
ڈھاکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ روہنگیا کی طویل مدتی آبادکاری مقامی آبادی کے وسائل پر دباؤ بڑھائے گی۔
اسی سیاسی اور معاشی پیچیدگی کے باعث انسانیت سوز حالات کے باوجود مہاجرین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے منصوبے تاحال محدود اور تعطل کا شکار ہیں۔
تاریک مستقبل
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ امداد کو مربوط کر سکتی ہے لیکن میانمار کی صورتحال اور میزبان ممالک کی پالیسیوں کے سامنے اس کا کردار محدود ہے۔
روہنگیا پناہ گزینوں کا واحد مطالبہ اب بھی اپنی سرزمین پر باعزت واپسی یا موجودہ پناہ گاہوں میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔