سوڈان کی ریاست نہر النیل میں ڈینگی بخار کے تیزی سے پھیلنے میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں صرف 24 گھنٹوں میں 173 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد مجموعی تعداد 5113 کیسز اور 10 اموات تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار زمینی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ ریاست میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق صحت حکام کا کہنا ہے کہ شندی، المتمہ اور الدامر جیسے علاقے بیماری کے فعال مراکز بن چکے ہیں، جبکہ نئے اور زیادہ خطرناک ہاٹ اسپاٹس بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں خاص طور پر کبوشیہ شامل ہے جہاں ایک ہی دن میں درجنوں کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ بیماری اب محدود کیسز سے بڑھ کر بڑے پیمانے پر کمیونٹی میں پھیل چکی ہے۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار صرف اصل بحران کا ایک حصہ ہیں، اور جو کیسز ہسپتالوں تک پہنچ رہے ہیں وہ دراصل ’برفانی تودے کا اوپری حصہ‘ ہیں، جبکہ بڑی تعداد گھروں میں غیر رپورٹ شدہ موجود ہے، جہاں بنیادی صحت سہولیات کی کمی ہے۔
میدانی ذرائع کے مطابق ہسپتالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے، بیڈز مکمل طور پر بھر چکے ہیں، مریض فرشوں، گاڑیوں اور ایمرجنسی ایریاز میں علاج لینے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض گھروں میں کئی متاثرہ افراد ایک ساتھ بغیر مناسب دیکھ بھال کے رہ رہے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب سوڈان کا صحت کا نظام جنگ کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹس کے مطابق تقریباً 37 فیصد صحت مراکز غیر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی ہے۔
اس بگڑتی صورتحال کے درمیان ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دن فیصلہ کن ہو سکتے ہیں، یا تو وبا کو عارضی طور پر قابو کیا جا سکے گا، یا پھر یہ مکمل طور پر بے قابو ہو کر بڑے پیمانے پر صحت کا بحران بن سکتی ہے۔