عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں دفاعی اخراجات میں ہونے والا تیز رفتار اضافہ عالمی مالیاتی استحکام کے لیے نیا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل عارضی طور پر اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دے سکتا ہے، لیکن درمیانی مدت میں یہ ممالک کے مالیاتی استحکام اور معاشی توازن پر شدید دباؤ ڈالے گا۔
مالیاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 برسوں میں دنیا کے تقریباً نصف ممالک نے اپنے فوجی بجٹ میں اضافہ کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔
اعداد و شمار
رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان 50 فیصد ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ بڑھائے۔
- جی ڈی پی کا تناسب 2024ء تک: تقریباً 40 فیصد ممالک اپنے جی ڈی پی کا 2 فیصد سے زیادہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں، جبکہ 2018 میں یہ شرح صرف 27 فیصد تھی۔
- نیٹو کا عہد: نیٹو ممالک نے 2035 تک اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک لے جانے کا عہد کیا ہے، جو موجودہ شرح سے دو گنا زیادہ ہے۔
- امریکی بجٹ 2027: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کا فوجی بجٹ تجویز کیا ہے، جو 2026 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔
قلیل مدتی فوائد
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافے سے ’ڈیفنس ملٹی پلائر‘ (Defense Multiplier) اثر تقریباً ایک کے قریب ہوتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ دفاع پر خرچ ہر ڈالر جی ڈی پی میں تقریباً اتنا ہی اضافہ کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں:
- ابتدائی سالوں میں جی ڈی پی میں اوسطاً 3 فیصد اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
- سرمایہ کاری اور کھپت میں اضافے سے معاشی سرگرمی تیز ہوتی ہے۔
- تاہم، طلب میں اس اچانک اضافے سے افراطِ زر (Inflation) میں بھی عارضی اضافہ ہوتا ہے۔
مالیاتی خطرات: قرضے اور خسارہ
رپورٹ کے مطابق یہ قلیل مدتی فوائد ایک بھاری قیمت پر حاصل ہوتے ہیں اور دفاعی توسیع کے نتیجے میں:
- جی ڈی پی کے تناسب سے مالیاتی خسارہ اوسطاً 2.6 فیصد پوائنٹس بڑھ جاتا ہے۔
- اخراجات بڑھنے کے 3 سال کے اندر عوامی قرضوں میں جی ڈی پی کے 7 فیصد کے برابر اضافہ ہوتا ہے۔
- دفاعی اخراجات کا تقریباً دو تہائی حصہ قرض لے کر پورا کیا جاتا ہے، جو خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
سماجی اخراجات کی قربانی: (Guns vs Butter)
آئی ایم ایف نے ایک قدیم معاشی نظریے (Guns vs Butter) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب فوجی بجٹ بڑھتا ہے تو اکثر صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے بجٹ میں کٹوتی کر دی جاتی ہے۔
- جنگوں کے دوران عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 14 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جس سے سماجی شعبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی کم ہو جاتی ہے۔
- وہ ممالک جن کے پاس اپنا مضبوط دفاعی صنعتی ڈھانچہ نہیں ہے، ان کا زیادہ تر سرمایہ دفاعی سامان کی درآمد پر خرچ ہو جاتا ہے، جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچنے کے بجائے پیسہ باہر چلا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق دفاعی اخراجات کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ انہیں کیسے فنڈ کیا جا رہا ہے۔
اگر یہ رقم تحقیق، ترقی (R&D) اور پیداواری سرمایہ کاری پر خرچ کی جائے تو طویل مدتی ترقی ممکن ہے، لیکن صرف قرضوں پر انحصار مالی عدم استحکام کا باعث بنے گا۔
مالیاتی ادارے نے ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں اور معاشی استحکام کے درمیان ایک ’نازک توازن‘ برقرار رکھیں اور فوجی اخراجات کو درمیانی مدت کے مالیاتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کریں تاکہ سماجی اخراجات اور قرضوں کی پائیداری متاثر نہ ہو۔