اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ولی عہد کی زیر صدارت پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی نئی حکمت عملی منظور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پبلک انویسٹمنٹ فنڈ حکمت عملی 2026 اور سعودی سرمایہ کاری پلان
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سال 2026 سے 2030 تک کی نئی تزویراتی حکمت عملی کی منظوری دے دی ہے۔

مزید پڑھیں

نئی حکمت عملی کے تحت مقامی معاشی نظام کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے اور مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

اس عمل میں نجی شعبے کو کلیدی شراکت دار کے طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ سعودی شہریوں کا معیار زندگی مزید بہتر بنایا جا سکے۔

پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری کو 3 اہم پورٹ فولیوز میں تقسیم 

کیا گیا ہے جن میں ’ویژن پورٹ فولیو‘سرفہرست ہے۔ اس کا مقصد مملکت کے اندر 6 بنیادی معاشی نظاموں کو ترقی دینا اور نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

پورٹ فولیو میں سیاحت، تفریح، شہری ترقی، جدید صنعتیں، لاجسٹکس اور صاف توانائی جیسے شعبے شامل ہیں۔ 

اس کے علاوہ نیوم سٹی جیسے بڑے منصوبوں کو بھی اس پورٹ فولیو کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔

دوسرا اہم حصہ ’اسٹریٹیجک انویسٹمنٹ پورٹ فولیو‘ ہے جو تزویراتی اثاثوں سے حاصل ہونے والے منافع کو زیادہ سے زیادہ بنانے پر مرکوز ہے۔ 

اس کے ذریعے سعودی کمپنیوں کو عالمی سطح کے بڑے اداروں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ وہ عالمی معاشی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکیں۔

تیسرا ’فنانشل انویسٹمنٹ پورٹ فولیو‘ ہے جو عالمی منڈیوں میں براہ راست اور بالواسطہ سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار مالیاتی منافع حاصل کرے گا۔ 

اس کا مقصد قومی دولت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے معاشی مستقبل کو محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔

فنڈ کے گورنر یاسر الرمیان نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ دہائی میں فنڈ کے زیر انتظام اثاثوں میں 6 گنا اضافہ ہوا ہے۔ 

انہوں نے مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک گیمز اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں ہونے والی غیر معمولی پیش رفت کو فنڈ کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

یاسر الرمیان کے مطابق نئی حکمت عملی 2021 سے 2025 تک کی کامیابیوں کا تسلسل ہے۔ 

اگلے پانچ برسوں میں فنڈ بین الاقوامی سطح پر اپنی قیادت کو مزید مضبوط کرے گا اور ڈیٹا سائنس سمیت مصنوعی ذہانت کو ادارہ جاتی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

تاریخی اعداد و شمار کے مطابق فنڈ کے زیر انتظام اثاثے 2015 میں 500 ارب ریال تھے جو 2025 تک 3.4 ٹریلین ریال سے تجاوز کر چکے ہیں۔ 

اسی طرح سال 2017 سے اب تک شیئر ہولڈرز کو سالانہ 7 فیصد سے زائد کا منافع حاصل ہو رہا ہے۔

پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے 2021 سے 2025 کے دوران مقامی سطح پر نئے منصوبوں میں تقریباً 750 ارب ریال کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے علاوہ 2021 سے 2024 تک مقامی مواد کی خریداری اور مقامی صنعتوں کے فروغ پر 590 ارب ریال خرچ کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی غیر نفٹی جی ڈی پی میں فنڈ کا حصہ 2024 تک تقریباً 10 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ 

2021 سے 2024 کے دوران فنڈ نے مجموعی طور پر ملکی معیشت میں 910 ارب ریال کا گراں قدر حصہ ڈال کر معاشی استحکام فراہم کیا ہے۔

عالمی سطح پر فنڈ نے ایشیا، یورپ اور امریکہ میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں تاکہ مستقبل کی معیشتوں میں سرمایہ کاری کی جا سکے، جبکہ موڈیز نے فنڈ کی ریٹنگ Aa3 اور فچ نے A+ برقرار رکھی ہے جو اس کے مالی استحکام کی علامت ہے۔