برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے بدھ کے روز رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر چینی سیٹلائٹ کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا ہے، جس سے تہران کو حالیہ جنگ کے دوران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی نئی صلاحیت حاصل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، لیک ہونے والی ایرانی فوجی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے 2024 کے آخر میں “TEE-01B” نامی سیٹلائٹ حاصل کیا، جو چین سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
اخبار کے مطابق شدہ نقاط، سیٹلائٹ تصاویر اور مدار کے تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی فوجی کمانڈرز نے بعد ازاں اس سیٹلائٹ کو خطے میں اہم امریکی فوجی مقامات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا۔
یہ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے پہلے اور بعد میں لی گئی تھیں۔
سیاسی امور کی ماہر نکول گراژیوِسکی نے کہا کہ واضح طور پر یہ
سیٹلائٹ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اسے ایران کے سول اسپیس پروگرام کے بجائے پاسداران انقلاب کی فضائیہ چلا رہی ہے۔
ان کے مطابق ایران اس وقت اس نوعیت کی بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے تاکہ اہداف کی نشاندہی اور حملوں کی کامیابی کا جائزہ لیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “TEE-01B” سیٹلائٹ تقریباً نصف میٹر تک کی ریزولوشن کے ساتھ تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو تجارتی سطح کے جدید مغربی سیٹلائٹس کے برابر ہے۔ اس کے برعکس ایران کا سابقہ جدید ترین فوجی سیٹلائٹ “نور-3” صرف تقریباً 5 میٹر ریزولوشن رکھتا ہے، جو اہم عسکری تفصیلات کی نشاندہی کے لیے ناکافی سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب حالیہ دنوں میں امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ چین آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، ممکنہ طور پر تیسرے ممالک کے ذریعے ترسیل کو خفیہ رکھا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کے بعد چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم چینی سفارت خانے نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے کبھی کسی فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کیے۔