یورپی کمیشن کی ویب سائٹ پر گزشتہ شب ایک الیکٹرانک کاؤنٹر نے ایسا ہندسہ عبور کیا جس نے برسلز کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
مزید پڑھیں
’10 لاکھ دستخط‘۔ یہ محض ایک عدد نہیں ہے، بلکہ یورپی فلسطینی کونسل برائے سیاسی تعلقات (EUPAC) کے مطابق یہ یورپی عوام کے فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا ایک تاریخی اور فیصلہ کن موڑ ہے۔
یورپی شہریوں کا اقدام (European Citizens’ Initiative) کے عنوان سے جنوری میں شروع ہونے والی اس مہم نے، جس کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا، صرف 3 ماہ میں اپنا ہدف پورا کر لیا ہے۔
شراکت داری کا خاتمہ: اسرائیل کے لیے ڈراؤنا خواب
اس مہم کا بنیادی مقصد ’یورپی یونین-اسرائیل پارٹنرشپ ایگریمنٹ‘ کی مکمل معطلی ہے۔ برسلز سے جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
- 2022ء میں دونوں کے درمیان تجارت کا حجم 46.8 ارب یورو رہا۔
- اسرائیل کی کل درآمدات کا 31.9 فیصد یورپی یونین سے آتا ہے، جبکہ اس کی کل برآمدات کا 25.6 فیصد یورپی منڈیوں میں جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین اپنے مؤقف میں جزوی تبدیلی بھی لاتی ہے، تو یہ اسرائیلی معیشت کے لیے ایک کاری ضرب ہوگی اور اس کی جارحانہ پالیسیوں کو جاری رکھنا مالی طور پر ناممکن بنا دے گی۔
احتجاج سے عزم تک: ایک منظم سفر
یہ مہم کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف یورپی سڑکوں پر ہونے والے مسلسل احتجاج کا نتیجہ ہے۔
یورپی فلسطینی میڈیا سینٹر (EPAL) کے سربراہ رائد صلاحات کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 25 یورپی ممالک میں 50 ہزار سے زائد مظاہرے اور تقریبات دستاویزی طور پر ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
اس عوامی جذبے کو قانونی شکل دینے کے لیے درج ذیل واقعات نے ایندھن کا کام کیا:
- جنوری 2024: عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کا اسرائیل کو نسل کشی روکنے کا حکم۔
- فروری 2024: اسپین اور آئرلینڈ کی جانب سے یورپی کمیشن سے ’شراکت داری معاہدے‘ پر نظرثانی کا باقاعدہ مطالبہ۔
- مئی 2025: فن لینڈ کی وزیر خارجہ کا بیان کہ ’بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جرم ہے‘۔
- ستمبر 2025: یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے تجارتی مراعات کی جزوی معطلی کی تجویز دی۔
قانونی دلیل
اس مہم کی بنیاد 2000ء میں ہونے والے شراکت داری معاہدے کی ’شق نمبر 2‘ پر ہے، جو فریقین کو انسانی حقوق کے احترام کا پابند بناتی ہے۔
اس قانونی پٹیشن میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیل نے درج ذیل اقدامات سے اس شق کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے:
- عام شہریوں کا منظم قتل عام اور جبری بے دخلی۔
- اسپتالوں اور طبی مراکز کی تباہی۔
- امداد کی بندش اور بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا۔
- عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی۔
مہم کے پیچھے کون ہے؟
تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اس مہم کی سیاسی اور مالی سرپرستی یورپین لیفٹ الائنس (European Left Alliance) نے کی ہے، جو فرانس، اسپین، ڈنمارک، سویڈن اور پولینڈ جیسی ریاستوں کی بائیں بازو کی جماعتوں کا اتحاد ہے۔
تاہم اس مہم کا حقیقی ایندھن یورپ میں مقیم عرب و مسلم کمیونٹی اور فلسطینی ادارے بنے، جنہوں نے اس احتجاج کو ایک قانونی اور جمہوری ہتھیار میں بدل دیا۔
جغرافیائی نقشہ
درج ذیل ممالک نے قانونی طور پر مطلوبہ دستخطوں کی حد کو عبور کیا:
- فرانس اس مہم کا سب سے بڑا مرکز رہا، جہاں 3 لاکھ 54 ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے (مطلوبہ حد سے 667 فیصد زائد)۔
- اٹلی میں حیران کن طور پر 452 فیصد دستخط ہوئے، جسے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے۔
- اسپین میں وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے بیانات نے عوام کو بغیر کسی خوف کے دستخط کرنے کی شہ دی۔
اگلا مرحلہ
10 لاکھ دستخطوں کے بعد اب قانونی کارروائی کا آغاز ہوگا:
- دستخطوں کی تصدیق کے لیے 3 ماہ کا وقت۔
- یورپی پارلیمنٹ میں ایک عوامی سماعت منعقد ہوگی۔
- یورپی کمیشن 6 ماہ کے اندر اپنا حتمی سیاسی اور قانونی جواب دینے کا پابند ہوگا کہ آیا وہ معاہدہ معطل کر رہا ہے یا نہیں۔
یورپی فلسطینی کونسل کے سربراہ ماجد الزیر کے مطابق یہ مہم ثابت کرتی ہے کہ اب اسرائیلی بیانیہ یورپی عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔
اب مسئلہ صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں رہا بلکہ برسلز کے ایوانوں میں قانونی دفعات کی صورت میں گونج رہا ہے۔
یورپ اب ایک ایسے امتحان میں ہے جہاں اسے ثابت کرنا ہوگا کہ کیا اس کے نزدیک انسانی حقوق کی شق نمبر 2 کی کوئی اہمیت ہے یا وہ محض ایک خاموش تماشائی رہے گا۔